اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی  پروفیسر احسن اقبال نے اْرمچی میں  تیان شان فورم برائے وسطی ایشیا اقتصادی تعاون سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے یوریشیا میں علاقائی رابطوں، جیو اکنامک انضمام اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء، سفارتکاروں، سکالرز اور علاقائی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تیان شان کا خطہ-  قدیم شاہراہ ریشم کا تاریخی دروازہ رہا ہے، اب جدید، منسلک اور مربوط یوریشین معیشت کے احیاء  کی قیادت کرے۔ ’’یہ خطہ دنیا کے کنارے پر نہیں بلکہ مستقبل کے عالمی منظرنامے کا مرکز ہے‘‘۔ انہوں نے چین، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے اس سٹرٹیجک اتحاد کو اجاگر کیا جو 3.

9 ارب آبادی اور 25 کھرب ڈالر سے زائد مشترکہ جی ڈی پی کا حامل ہے۔ صدر شی جن پنگ کے اس قول کا حوالہ دیا کہ ’’ترقی تمام مسائل کو حل کرنے کی کنجی ہے‘‘ اور کہا کہ تیان شان فورم علاقائی تعاون میں ترقی کو محور بنا کر اس وژن کو حقیقی شکل دے رہا ہے۔ پاکستان جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف منتقلی کے ذریعے خود کو وسطی ایشیا، چین، مشرق وسطیٰ اور عالمی منڈیوں کے درمیان سب سے مؤثر، قابل اعتماد اور کم لاگت رابطے کے مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ گوادر پورٹ وسطی ایشیائی ممالک کو سمندری تجارت تک سب سے مختصر، تیز ترین اور کم لاگت رسائی فراہم کرتا ہے جس سے ٹرانزٹ ٹائم 70 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ ’’پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض سٹرٹیجک نہیں بلکہ ایک حل ہے‘‘۔  انہوں نے  وسطی ایشیائی ممالک کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کی بندرگاہوں، انفراسٹرکچر اور صنعتی بنیاد سے فائدہ اٹھائیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) نے پاکستان میں توانائی و انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تاریخی تبدیلی لائی ہے۔ سی پیک کے تحت 8,000 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوئی۔ 1,000 کلومیٹر سے زائد جدید موٹرویز تعمیر ہوئیں۔     گوادر پورٹ فعال ہوا۔ صنعتی زونز، ڈیجیٹل کوریڈور اور توانائی تعاون کیلئے بنیاد رکھی گئی۔ انہوں نے کہا  ’’سی پیک اس بات کا ثبوت  ہے کہ طویل مدتی وژن، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفاد کیسے حقیقی ترقی پیدا کرتے ہیں‘‘۔ احسن اقبال نے کہا کہ بی آر آئی، سی پیک اور کیریک کا فریم ورک ’’مواقع کی ہم آہنگ شاہراہیں‘‘ ہیں جو یوریشیا کو دنیا کا سب سے متحرک اقتصادی خطہ بنا سکتی ہیں۔ پاکستان نے علاقائی معاشی امکانات کھولنے کے لیے چار نکاتی عملی تعاون پلان پیش کیا: جائنٹ ٹاسک فورس برائے کنیکٹیویٹی و ٹریڈ انٹیگریشن۔ ریجنل سپیشل اکنامک زونز (R-SEZs)۔ یوریشین انرجی و گرین ٹرانزیشن پارٹنرشپ اور ڈیجیٹل سلک روڈ و فیوچر سکلز الائنس۔ احسن اقبال نے کہا کہ یہ تجاویز ’’عملی، قابل توسیع اور بی آر آئی، سی پیک اور کیریک فریم ورک سے مکمل ہم آہنگ‘‘ ہیں۔ انہوں نے خطے کے مشترکہ چیلنجز ماحولیاتی تبدیلی، توانائی عدم تحفظ، ٹیکنالوجی میں خلل،  فنانسنگ گیپس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کا حل اجتماعی تعاون ہی میں ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: احسن اقبال وسطی ایشیا انہوں نے نے کہا سی پیک کہا کہ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار