یوریشیا میں رابطوں، جیو اکنامک انضمام، مشترکہ خوشحالی کے دور کی ضرورت: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اْرمچی میں تیان شان فورم برائے وسطی ایشیا اقتصادی تعاون سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے یوریشیا میں علاقائی رابطوں، جیو اکنامک انضمام اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء، سفارتکاروں، سکالرز اور علاقائی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تیان شان کا خطہ- قدیم شاہراہ ریشم کا تاریخی دروازہ رہا ہے، اب جدید، منسلک اور مربوط یوریشین معیشت کے احیاء کی قیادت کرے۔ ’’یہ خطہ دنیا کے کنارے پر نہیں بلکہ مستقبل کے عالمی منظرنامے کا مرکز ہے‘‘۔ انہوں نے چین، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے اس سٹرٹیجک اتحاد کو اجاگر کیا جو 3.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: احسن اقبال وسطی ایشیا انہوں نے نے کہا سی پیک کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔