data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251201-08-30

سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

2035 تک معاشی ترقی 6فیصد، برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے، احسن اقبال

ایشین پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن کی جانب سے گرین پروڈکٹیویٹی 2.0 پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں این پی او اور وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں وفاقی وزرا، سینئر سرکاری حکام، صنعتی رہنما، بین الاقوامی ماہرین اور 21 اے پی او ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، جبکہ 80 سے زائد غیر ملکی مندوبین نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک فیز 2 میں کون سے 5 نئے کوریڈور شامل ہیں؟ احسن اقبال نے بتا دیا

کانفرنس میں پائیدار صنعتی ترقی، توانائی کی منتقلی، سرکلر اکانومی، ڈیجیٹل پروڈکٹیویٹی ٹولز، گرین ہائیڈ روژن، سولر پلیٹس کی مقامی پیداوار، سرکلر پلاسٹکس اور حکومت، اکیڈمیا اور صنعت کے روابط جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ اٹلی، جاپان، تھائی لینڈ، چین، ملائیشیا، سری لنکا، ترکیہ، ویتنام اور پاکستان کے ماہرین نے خطے میں گرین پروڈکٹیویٹی کے مستقبل کے لیے تحقیقی نتائج اور حل پیش کیے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا بیان

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ گرین پروڈکٹیویٹی پاکستان کے لیے معاشی لحاظ سے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہدف 2035 تک معاشی ترقی کو 6 فیصد سے اوپر لے جانا، برآمدات 100 ارب ڈالر تک بڑھانا، کاربن کے اخراج میں 30 فیصد کمی لانا اور توانائی کے شعبے میں 60 فیصد صاف ذرائع شامل کرنا ہے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی کا بیان

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کی توانائی کا مستقبل صاف اور جدید نظاموں پر منحصر ہے، اور گرین پروڈکٹیویٹی قومی سطح پر توانائی کے تحفظ اور پائیداری کو مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے 17 فیصد رضا کارانہ این ڈی سی ہدف کے حوالے سے کہا کہ یہ پاکستان کے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی ترقی کے لیے نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنا ہوں گے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پارلیمانی رکن شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ گرین پروڈکٹیویٹی معاشی ترقی، ماحولیاتی ذمہ داری اور سماجی دیکھ بھال کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ اے پی او کے نمائندے محمد زینیوری نے پاکستان کی گرین پروڈکٹیویٹی کے لیے کی جانے والی پیش رفت کو سراہا اور اسے دیگر ممالک کے لیے مثال قرار دیا۔

کانفرنس کے اختتام پر لمز اور این پی او کے سینئر عہدیداروں نے کہا کہ پائیدار صنعتی تبدیلی کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔ پرووسٹ ڈاکٹر طارق جدون نے بین الاقوامی اور مقامی مندوبین کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ یہ معلومات پاکستان کی صنعتی ترقی کو صاف، مسابقتی اور پروڈکٹیویٹی پر مبنی سمت دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

خطے کے ممالک کا عزم

کانفرنس کے اختتام پر خطے کے ممالک نے پائیدار صنعتی ترقی، شعبوں کے درمیان تعاون اور پاکستان کو عالمی صنعتی معیشت میں مسابقتی بنانے کے لیے اپنے عزم کو مزید مضبوط کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news احسن اقبال پاکستان وزیر منصوبہ بندی

متعلقہ مضامین