سکھر: ڈاکوئوں کے ساتھ مقابلے میں کانسٹیبل جہانزیب شہید،نماز جنازہ اداکردی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت)تھانہ روہڑی کی حدود نیو یارڈ ریلوے پھاٹک کے قریب ڈاکوؤں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل جہانزیب جتوئی جانبحق ھوگئے ، اتوار کے روز شہید کی نمازِ جنازہ پولیس لائن ہیڈکوارٹر سکھر میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔نمازِ جنازہ میں ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ، ایس ایس پی سکھر اظہر خان، ایس ایس پی سی ٹی ڈی قدوس کلوڑ سمیت اعلیٰ پولیس افسران، اہلکاروں، صحافیوں اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔۔شہید کے جسد خاکی کو پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، جب کہ جسد خاکی کو پاکستان اور سندھ پولیس کے پرچم میں لپیٹا گیا، جس سے شہید اہلکار کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، اس موقع پر شہید کی بلندی? درجات اور مغفرت کے لیے اجتماعی دعا کی گئی، بعد ازاں تدفین کیلئے جسد خاکی آبائی گاؤں روانہ کردیا گیا۔۔اس موقع پر ڈی آئی جی سکھر رینج نے کہا کہ امن کے قیام کی خاطر جانوں کا نذرانہ دینے والے پولیس افسران اور جوان پورے محکمے کا فخر ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ شہید اہلکار کی قربانی ہرگز رائیگاں نہیں جائے گی۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سکھر رینج پولیس کی جامع کارکردگی: کتنے ڈاکو مارے، ہنی ٹریپ سے کتنے بچائے؟
سکھر رینج کے تینوں اضلاع سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں خطرناک ڈاکوؤں و گینگسٹرز اور دیگر کارروائیوں کی تفصیل جاری کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بچوں کو ’چائلڈ ابیوز‘ سے بچانے کی تربیت دی جاتی ہے، مراد علی شاہ
ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی سربراہی میں سکھر رینج کے تینوں اضلاع سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں ایک سال کے دوران جرائم کے خاتمے، امن و امان کی بہتری، عوامی فلاح، اندرونی احتساب، پولیس ویلفیئر اور جدید آئی ٹی سسٹمز کے تحت نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق کچے کے علاقے میں بڑے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
پولیس مقابلے اور آپریشنزرپورٹ کے مطابق 547 پولیس مقابلے ہوئے جن میں29 خطرناک جرائم پیشہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ 160 زخمی،836 ملزمان گرفتار اور248 گینگز کا خاتمہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں24 انتہائی مطلوب ملزمان نے ہتھیار ڈال کر خود کو پولیس کے حوالے کیا۔
اشتہاری و مفرور ملزمان کی گرفتاریقتل کے مقدمات میں414 اشتہاری،425 مفرور گرفتار کیے گئے جبکہ دیگر مقدمات میں 680 اشتہاری اور 2036 مفرور گرفتار کیے گئے۔
50 لاکھ روپے انعام یافتہ بدنام ڈاکو شاہنواز عرف شاہو اپنے 8 ساتھیوں سمیت مارا گیا اور 20 لاکھ روپے انعام یافتہ ڈاکو سلطان شاہ اپنے بیٹے کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا۔
منشیات فروشوں اور منشیات کی برآمدگیاے پلس کیٹگری میں 26 منشیات فروش گرفتار ہوئے۔ مجموعی طور پر 1329 مقدمات درج، 1529 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
بھارتی مقدار میں منشیات برآمدبھاری مقدار میں چرس، آئس، ہیروئن، شراب اور بھنگ سمیت بھاری مقدار میں گٹکا و مین پوری برآمد کی گئی۔
جوا، اسلحہ اور چوری شدہ املاکجوئے کے 254 کیسز درج کیے گئے جن کے تحت 1113 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
چوری شدہ املاک برآمد8 کروڑ 79 لاکھ روپے کی پراپرٹی بشمول683 موٹر سائیکلیں اور45 کاریں برآمد کر کے مالکان کے حوالے کی گئیں۔
اسلحہ برآمدگیاسلحے کے حوالے سے 719 مقدمات درج کیے گئے جن کے تحت673 گرفتاریاں ہوئیں۔
جدید و بھاری اسلحہ سمیت ہزاروں راؤنڈز کی ریکوری کی گئی۔
اغوا کیسز اور ہنی ٹریپ سے بچاؤسکھر رینج میں 46 مغویوں کی باحفاظت بازیابی کی گئی۔
مجموعی طور پر1776 شہریوں کو ہنی ٹریپ اور کچے کے علاقے میں ورغلا کر اغوا سے بچایا گیا۔ (واضح رہے کہ کچے کے ڈاکو خواتین کے ذریعے یا مختلف ایپلی کیشنز کی مدد سے آواز بدل کر نسوانی آواز میں لوگوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر کچے کے علاقے میں بلوالیتے ہیں اور اغوا کرکے تاوان وصول کرتے ہیں)۔
رپورٹ کے مطابق رینج میں اس وقت کوئی بھی مغوی موجود نہیں۔
گمشدہ بچوں کی بازیابیگمشدہ بچوں کو تلاش کیا گیا اور مجموعی طور پر34 بچوں کو ان کے والدین سے ملا دیا گیا۔
ٹریفک ایکشن14853 چالان کیے گئے اور17 لاکھ 60 ہزار روپے جرمانہ قومی خزانے میں جمع کرائے گئے۔
اندرونی احتسابکرپشن و جرائم کی سہولت کاری کے مرتکب 86 افسران و اہلکار برخاست کیے گئے۔
مزید پڑھیں: سندھ: کچے کے ڈاکوؤں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش، نئی پالیسی ہے کیا؟
اس حوالے سے ان کی تنزلی یا دیگر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔
مائنر پنشمنٹ156 افسران و اہلکاروں کو تنبیہ، جرمانے یا انکریمنٹ روکنے کی سزائیں دی گئیں جبکہ105 افسران کے شوکاز فائل کیے گئے۔
جزا کا عمل218 اہلکاروں کو تعریفی اسناد و کیش ایوارڈ جبکہ 69 کو آئی جی سندھ کی جانب سے اسناد ملیں۔
شکایتی سیل کی کارکردگیکمپلینٹ سیل کو کل7790 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 6644 حل کردی گئیں جبکہ باقی شکایات پر کارروائی جاری ہے۔
شہدا کے ورثا اور پولیس ملازمین کی ویلفیئرشہدا کے ورثا کو 14 نوکریاں فراہم کی گئیں۔
مجموعی ویلفیئر فنڈنگ کے تحت39 کروڑ 5 لاکھ روپے فوری ریلیف و دیگر گرانٹس دی گئیں۔37 کروڑ 58 لاکھ روپے شہدا و انجری کمپنسیشن کے تحت دیے گئے۔
مزید پڑھیے: ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی کو عہدوں سے کیوں ہٹایا گیا؟
ہیلتھ انشورنس سے 4640 افراد نے مفت علاج کی سہولت حاصل کی۔
انفراسٹرکچر و آئی ٹی اصلاحات3 ماڈل پولیس اسٹیشن فعال کردیے گئے جبکہ مزید 4 زیر تعمیر ہیں۔
ہائی ویز پر 7 ہالٹنگ پوائنٹس مکمل کرلیے گئے۔
جدید سسٹمزپی ایس آر ایم ایس کے تحت86.4% ڈیٹا انٹری مکمل کی گئی۔ ایچ ای ایم ایس کے ذریعے 21 خطرناک ملزمان گرفتار کیے گئے، تلاش ایپ کے ذریعے 156 ملزمان پکڑے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: شکار پور: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے سابق صوبائی وزیر غالب ڈومکی زخمی، 2 گارڈز ہلاک
حاضری سسٹم میں 11430 اہلکاروں کی پابندی یقینی بنائی گئی۔
ترقی، بھرتیاں اور انسپیکشن276 افسران و اہلکاروں کی ترقی عمل میں لائی گئی۔
1401 بھرتیاں مختلف کوٹہ جات کے تحت کی گئیں جبکہ مزید 1421 کیسز پراسیس میں ہیں۔
300 سے زائد پولیس دفاتر و تھانوں کی انسپیکشن مکمل کی گئی۔
ڈی آئی جی سکھر کا پیغامڈی آئی جی کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے کہا ہے کہ ایمانداری اور حوصلے کے ساتھ عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے۔ قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی۔
مزید پڑھیں: شکار پور: کچے کے ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے ایس ایچ او کو شہید کردیا
انہوں نے کہا کہ سکھر رینج پولیس کی محنت ہی ہمارا فخر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سکھر رینج پولیس سکھر رینج پولیس کی کارکردگی سکھر رینج میں ڈاکو گرفتار سندھ کے ڈاکو ہنی ٹریپ