کُرم، خوراج کا پولیس پوسٹ پر حملہ، 2 اہلکار شہید، 4 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کرم (نیوز ڈیسک) سنٹرل کُرم میں چنارک پولیس پوسٹ پر خوراجی دہشتگردوں نے حملہ کیا۔خیبرپختونخوا کے ضلع کُرم میں پولیس پوسٹ پر دہشت گرد حملے میں 2 اہلکار شہید ہوگئے جبکہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
حکام کے مطابق سنٹرل کُرم میں چنارک پولیس پوسٹ پر خوراجی دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں 4 دہشتگرد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔ دہشتگردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں کُرم پولیس کے 2 جوان بھی شہید ہوگئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس اور مقامی قبیلے کے مشترکہ آپریشن میں 3 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق فتنہ الخوارج اور مقامی افراد میں شدید فائرنگ ہوئی، اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز بھی پہنچ گئیں، آپریشن کے بعد پولیس نے علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔