EOBIایڈجوکیٹنگ اتھارٹی میں مزدوررہنما کے ساتھ ناروا سلوک
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل ریفائنری کنٹریکٹر ورکرز یونین CBAکے جنرل سیکرٹری شاکر محمود صدیقی نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 26 نومبر بروز بدھ بوقت تقریباً دوپہر ساڑھے 12بجے میں اپنے 2 ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ کی ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی میں کیس جمع کرانے گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ کورنگی ریجن نے میرے ورکرز کی منیمم پنشن بنائی تھی جو کہ فارمولا پنشن ہونی چاہیے تھی۔ مختصر یہ کہ جب میں کیس جمع کرانے پہنچا تو اتھارٹی میں موجود عرفان احمد جو کہ درخواستیں وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے درخواستیں یعنی کیسز دیکھنے کے بعد وہیں بیٹھے بیٹھے فیصلہ سنا دیا کہ یہ پنشن صحیح بنی ہیں۔ جس پر میں نے ان سے کہا یا تو آپ یہ درخواستیں وصول کر لیں یا میری درخواستوں پر فیصلہ لکھ کر دے دیں۔ اس پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کون ہیں؟ میں نے کہا یہ میرے ورکرز ساتھی ہیں ان سے پوچھ لیں جس پر وہ آگ بگولا ہوگئے اور بدتمیزی پر اُتر آئے اور سیکورٹی گارڈ کو بلا کر کہنے لگے اسے باہر نکالو جس پر پھر میری بردداشت ختم ہوگئی۔ میں نے کہا کوئی مجھے ہاتھ لگا کر دیکھے تو بتاتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔ آخر میں میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کے اس عمل کو معاف نہیں کروں گا اور یہ بھی بتاؤں گا کہ ٹریڈ یونینسٹ کیا ہوتے ہیں۔ اس موقع پر شاکر محمود صدیقی نے نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے رہنمائوں خالد خان، قاسم جمال اور ان کی ٹیم سمیت پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری وقار میمن، چوہدری سعد اور چوہدری نسیم اقبال جو کہ EOBIکے بورڈ آف ٹرسٹیز میں بھی شامل ہیں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ EOBIکے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں اور اس کا ازالہ کروائیں۔
اس واقعے پر نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے سینئر نائب صدر امیر روان نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ورکرز کے حقوق پر ڈاکہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ EOBI کے اہلکاروں کا یہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی رویہ فوری طور پر تحقیق اور جوابدہی کا مستحق ہے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن مطالبہ کرتی ہے کہ مذکورہ اہلکار عرفان احمد کے رویے کے خلاف محکمانہ انکوائری، ڈسپلنری ایکشن اور ادارے کے اندر سروس ڈسپلن کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
مزید برآں مزدور اتحاد گروپ اٹک سیمنٹ کے رہنمائوں نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار اہلکار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کی مولانا کلب جواد سے ملاقات، اترپردیش کی موجودہ سیاست پر بات چیت
ملاقات کے بعد ڈاکٹر ممتاز رضوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کلب جواد سے کچھ ایسی باتیں ہوئی ہیں جنکا ذکر وقت آنے پر کیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر اور مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد، شاہی امام کربلا جورباغ مولانا سید محمد قاسم، امام جمعہ بڑی مسجد خوریجی مولانا عابد عباس سینیئر صحافی ادیب و قلمکار اور سیاستداں ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کی خصوصی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر مولانا کلب جواد اور تمام علماء کرام نے سب سے پہلے ڈاکٹر ممتاز رضوی کو بی ایس پی میں شامل ہونے پر گلدستہ پیش کرتے ہوئے مبارکباد دی اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعائیں دیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر ممتاز رضوی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نے یوپی میں بی ایس پی حکومت کے آنے کا دعویٰ کیا۔
کربلا جور باغ نئی دہلی میں ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے مولانا کلب جواد سے قریب 30 منٹ کی ملاقات کی جس میں اترپردیش کی موجودہ سیاست اور بطور خاص 2027ء میں ہونے والے اسمبلی کے انتخابات پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد ڈاکٹر ممتاز رضوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کلب جواد سے کچھ ایسی باتیں ہوئی ہیں جن کا ذکر وقت آنے پر کیا جائے گا، بس یہ ہے کہ انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، آپ کے ساتھ ہم سب کھڑے ہیں۔ مولانا کلب جواد نے اس بات کی تائید کی کہ بہن کماری مایاوتی کا دور حکومت باقی سے اچھا رہا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز رضوی نے کہا کہ مولانا کلب جواد نے کچھ مشورے دیے ہیں جن کو مایاوتی تک جلد پہنچانے کا کام کیا جائے گا اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔