وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر فیکٹریوں میں بوائلرز کی انسپیکشن کاحکم
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد(نامہ نگار) گذشتہ چند روز قبل جھمرہ روڈ پر واقٰع ایک کیمیکل فیکٹری میں ہونے والے دھماکے کے بعد جس میں درجنوں افراد ملازمین اور قریبی رہائشی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے جس کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر فیصل آباد ڈویژن میں تمام صنعتی یونٹس/فیکٹریز کے بوائلرز،پریشر ویسلزکی استعداد کار کاازسر نو جائزہ لینے کے لئے جامع انسپکشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوران انسپکشن صنعتی یونٹ کی جیو ٹیگنگ ولوکیشن کے ساتھ این او سیز موجود ہونے کو بھی چیک کیا جائے گا جس کے لئے 4 نجی کمپینز کو 90 دن کا وقت دیا گیا ہے۔اس امر کا فیصلہ کمشنر فیصل آباد راجہ جہانگیر انور کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس میں کیا گیاجس میں انڈسٹریز،لیبر،سول ڈیفنس، ماحولیا ت سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران اور کمپنیز کے نمائندگان بھی موجود تھے۔کمشنر نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈویڑن کے صنعتی یونٹس میں 12 سو سے زائد بوائلرز اور 6 ہزار سے زائد پریشر ویسلزموجود ہیں جن کی استعداد کار کااندازہ لگانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایسے بوائلر اور پریشر ویسلز کی معیاد ختم ہونے پر ان کے پھٹنے اور خدانخواستہ انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہوتا ہیاسی مقصد کے لئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔کمشنر نے کہا کہ ڈویڑنل انتظامیہ نے انفورسمنٹ کمیٹی بھی قائم کی ہے اور نجی کمپنیز کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پرانسپکشن رپورٹ پر این او سیز کی عدم موجودگی سمیت دیگر ایس اوپیز کی تکمیل میں کوتاہی یا عدم توجہی پر صنعتی یونٹ کو سیل کردیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی(فیڈمک) کی انتظامیہ کو بھی پابند کیا گیا کہ وہ اپنی حدود میں قائم تمام صنعتی یونٹس،فیکٹریوں میں بوائلر/پریشر ویسلز کی درکار تقاضوں اور ان کی استعداد کار کو جانچ کرجامع رپورٹ 30 ایام میں کمشنر آفس کو بھجوائیں جس میں معمولی سی بھی غفلت یا لاپروائی کی کوئی گبجائش نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصل ا باد
پڑھیں:
پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں 132ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا آج 300 سے زائد خواتین اپنی ٹریننگ مکمل کررہی ہیں، مجھےخواتین کی کامیابی پر بہت خوشی ہوئی کہ ایک تازہ دم دستہ عوام کی خدمت کےلیے تیار ہے، شہریوں کو پر امن زندگی دینے کی ذمےداری اب آپ پر عائد ہوتی ہے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک دہشتگردی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمارے جوانوں نے بہت قربانیاں دیں ہیں، کچے کے علاقے کچھ عرصے پہلے تک بحران سے دوچار تھے، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائےگا، پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی فلاح و بہبود ہمیشہ سے میری اولین ترجیح رہی ہے، مستقبل میں بھی پولیس کے تمام مسائل کو بہتر اور ترجیحی انداز میں حل کیا جائے گا، پاس آؤٹ ہونے والے جوان فیلڈ میں جا کر سندھ پولیس کا نام مزید روشن کریں گے۔مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ پولیس اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ہی اپنے امیج (تاثر) کو بہتر بنا سکتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے، سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اس موقع پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانےکی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔