گھارو علماء ایکشن کمیٹی کے تحت استقبال رمضان کے سلسلے میں تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گھا رو(جسارت نیوز)گھارو علماء ایکشن کمیٹی گھارو کے زیرِ اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی احترام و استقبالِ رمضان المبارک کے سلسلے میں 28 شعبان المعظم 1447ھ بمطابق 17 فروری 2026ء بروز منگل سہ پہر چیئرمین ہوٹل گھارو میں ایک پروقار سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں علماء کرام، تاجر برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سیمینار کا مقصد شہری سطح پر رمضان المبارک کی حرمت و تقدس کو یقینی بنانا، ماہِ مبارک کی بے حرمتی کے تمام ممکنہ ذرائع کی روک تھام اور معاشرتی اصلاح کے لیے مشترکہ لائح عمل طے کرنا تھا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری ابراہیم کورائی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد علماء ایکشن کمیٹی کے قائدین نے خطاب کیا۔ افتتاحی خطاب میں سرپرست علماء ایکشن کمیٹی مولانا غلام محمد سومرو نے فلسفیانہ انداز میں ماہِ صیام کو عطیہ خداوندی قرار دیتے ہوئے اس کی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی برکات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک انسان کی انفرادی اور اجتماعی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔ صدر علماء ایکشن کمیٹی مولوی قاسم چانڈیو نے اپنے خطاب میں تاجر برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے، لہٰذا اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مناسب رکھی جائیں اور ذخیرہ اندوزی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔انہوں نے علماء کرام کو بھی ان کی دینی و سماجی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے اصلاحِ معاشرہ میں فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔سیمینار کے مہمانِ خصوصی اور روحِ رواں حضرت مولانا سائین محمد سلیم عاطف چانڈیو نے رمضان المبارک کے احترام و اکرام کے حوالے سے جامع اور مدلل خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علماء ایکشن کمیٹی رمضان المبارک
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :