سٹاک مارکیٹ میں مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2026 GMT
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج مندی کا رجحان رہا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو اربوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔کاروباری ہفتے کے پانچویں اور آخری روز کاروبار کے آغاز پر ہی سٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، 1800 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 69 ہزار 885 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔ٹریڈنگ کے دوران پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان برقرار رہا جس کے باعث کاروباری روز کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 718 پوائنٹس کی کمی کیساتھ ایک لاکھ 71 ہزار 21 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس 2690 پوائنٹس کی کمی کیساتھ ایک لاکھ 71 ہزار 739 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سٹاک مارکیٹ میں پاکستان سٹاک پوائنٹس کی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔