data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماتلی (جسارت نیوز ) ملیر بار کونسل کے رکن اور ریٹائرڈ جوڈیشل آفیسر ذوالفقار علی کمبوہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلع لاڑکانہ کے تعلقہ باقرانی، دیہ ٹھلہ گوٹھ حکیم سندیلوی میں واقع ان کی خاندانی ملکیت کی تقریباً ڈھائی ایکڑ زرعی زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کرلیا گیا ہے اور دھان کی فصل بھی اپنی تحویل میں لے لی گئی ہے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ مذکورہ زمین ان کے والد مرحوم حاجی محمد صدیق نے سن 2001 میں خریدی تھی جہاں محمد موسیٰ اور محمد عیسیٰ ولد غلام رسول بطور کاشتکار کام کرتے رہے تاہم حالیہ دنوں میں انہوں نے زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ ذوالفقار علی کمبوہ کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر ڈپٹی کمشنر اور ایس پی لاڑکانہ کو تحریری درخواستیں جمع کرا دی ہیں لیکن تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یوسی محراب پور کے چیئرمین منظور منگن مبینہ طور پر زمین پر قابض افراد کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق منظور منگن پیپلز پارٹی تعلقہ باقرانی کے نائب صدر بھی ہیں اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کر رہے ہیں۔ ریٹائرڈ جج کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے منظور منگن سے ملاقات بھی کی تاہم ان کے بقول مسئلہ حل کرنے کے بجائے ان کے خلاف لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی گئی جس کے الزامات کو انہوں نے سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ زمین کے ریکارڈ میں ردوبدل کی مبینہ کوشش بھی کی گئی تھی جسے بروقت کارروائی کے ذریعے واپس کروایا گیا۔ ذوالفقار علی کمبوہ نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری، آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ مداخلت اور جعلسازی کی کوششوں کی چھان بین کی جائے اور انہیں ان کی قانونی ملکیت کا تحفظ فراہم کیا جائے۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک