Express News:
2025-11-30@23:44:09 GMT

پاکستان میں اشرافیہ اصلاحات اور معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

کراچی:

ترقی پذیر ممالک میں ایلیٹ کی گرفت کوئی انوکھی بات نہیں مگر پاکستان میں یہ رجحان کہیں زیادہ گہرا، وسیع اور مالیاتی طور پر نقصان دہ صورت اختیار کر چکاہے۔

آئی ایم ایف کے تازہ سیاسی معیشت کے تجزیے کے مطابق پاکستان میں اقتدار اورفوائد پرقبضہ کسی ایک طبقے کانہیں بلکہ مختلف طاقتور گروہوں،عسکری اداروں، سیاسی خانوادوں، بڑے زمینداروں، تحفظ یافتہ صنعتی لابیوں اور شہری تجارتی مراکزکے درمیان بٹ چکاہے.

یہ گروہ ایک متحدہ اشرافیہ کی طرح نہیں بلکہ مسابقتی مفاداتی بلاکس کی شکل میں کام کرتے ہیں جو ریاستی فیصلوں کوکمزور اورمعاشی پالیسیوں کوغیر مربوط بناتے ہیں۔ نتیجتاً اصلاحات بار بار رک جاتی ہیں، ٹیکس کادائرہ نہیں بڑھ پاتا اور ریاست مسلسل مالیاتی بحران کاشکاررہتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس چھوٹ،مراعاتی ٹیرف، پسندیدہ صنعتوں کیلیے سبسڈیز اور بڑے غیر رسمی کاروباری طبقات کی حفاظت نے قومی آمدنی کوشدیدنقصان پہنچایاہے۔ جہاں دیگر ممالک بحرانوں کے بعدٹیکس اصلاحات پر زوردیتے ہیں، پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب جوں کا توں یا بدتر ہوجاتاہے۔

آئی ایم ایف نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں ایلیٹ کی گرفت صرف معاشی نہیں، بلکہ گہرے سیاسی و ادارہ جاتی ڈھانچے میں پیوست ہے۔ سول و عسکری عدم توازن،سیاسی انتشار اور بیوروکریسی کی جمودی سوچ اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

 تجزیے میں سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان کو روایتی اصلاحاتی نسخے نہیں،بلکہ ایک ایسے فریم ورک کی ضرورت ہے،جو سیاسی حقیقتوں کے مطابق ہو،جیسے ٹیکس نظام کی ڈیجیٹل اصلاح،مراعات کے بجائے کارکردگی پر مبنی سہولیات،سنگاپور ماڈل کے مطابق ایس او ایز کی غیر سیاسی نگرانی،شفاف معاشی فیصلہ سازی کے فورمز اور سب سے بڑھ کر پائیدارسیاسی استحکام ضروری ہے۔

 ماہرین کے مطابق پاکستان کی مشکل محض ایلیٹ کی گرفت نہیں بلکہ ’’ ایلیٹ ان ٹینگلمنٹ‘‘ ہے جس میں طاقت تقسیم تو ہے مگر تبدیلی کے خلاف متحد ہے، تاہم محتاط،مرحلہ وار اور سیاسی طور پر ہم آہنگ اصلاحات کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنایاجاسکتاہے۔

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں نہیں بلکہ کے مطابق

پڑھیں:

معیشت مستحکم ،وزارت خزانہکی ماہانہ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری

 

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق نومبر میں مہنگائی کی شرح 5.6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ اکتوبرمیں شرح 6.2 تھی۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں بہتری اور اصلاحات کےثمرات ظاہر ہو رہے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ متوقع حد کے اندر برقرار جبکہ برآمدات میں مستقل اضافہ اور ترسیلات زر مضبوط رہیں، مجموعی معیشت مثبت رفتار برقرار رکھے ہوئے ہے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن سے بہتری کا امکان ہے۔ گورننس میں بہتری کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ ماہانہ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق خوراک کی قیمتوں اور زرعی پیداوار پر دباؤ برقرار ہے۔۔ ربیع سیزن میں سپلائی مستحکم رکھنے کیلئے حکومتی اقدامات جاری ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • افغان حکومت، خطے کے امن کی دشمن
  • دیکھنا یہ ہے کہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ کون ہے: گورنر سندھ
  • پاکستان اور مصر کا سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
  • 2035 تک معاشی ترقی 6فیصد، برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے، احسن اقبال
  • بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان؛ امن کے لیے خطرہ
  • معیشت مستحکم ،وزارت خزانہکی ماہانہ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری
  • ای سی او: دہشتگردی ترقی میں رکاوٹ، علاقائی رابطوں کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اسحاق ڈار
  • غیر مسلح ہونے کا فیصلہ قومی مذاکرات سے ہوگا، اسرائیل غزہ معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حماس
  • ایس آئی ایف سی کوآرڈینیٹر کا کاروبار دوست معاشی روڈ میپ پیش