Jasarat News:
2026-07-24@06:23:54 GMT

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان؛ امن کے لیے خطرہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251129-03-7
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے بارے میں غیر سنجیدہ، غیر حقیقت پسندانہ اور اشتعال انگیز دعویٰ کیا، خطرناک رویے کی تازہ مثال ہے۔ انڈین وزیر ِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا صوبہ سندھ سے متعلق دیا گیا بیان خطرناک حد تک تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ انڈین وزیر دفاع کا یہ بیان اْس ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین، تسلیم شدہ سرحدوں کی حرمت اور ریاستی خودمختاری کی کْھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کے مہینوں بعد بھی سیاسی و عسکری رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات دینے کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے اور انڈین وزیر ِ دفاع کا حالیہ بیان اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین، تجزیہ کاروں نے اس بیان کو پاکستان کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ انڈین وزیر ِ دفاع اتوار کو دہلی میں سندھی سماج سمیلن کے عنوان سے ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کر رہا تھا جس کی متعدد ویڈیوز انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیے ہیں۔ انڈیا کے وزیر ِ دفاع نے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ سندھی ہندو، بالخصوص اْن کی نسل کے لوگ، آج تک سندھ کو انڈیا سے الگ کرنے کو قبول نہیں کر پائے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ناصرف سندھ میں بلکہ پورے انڈیا میں ہندو، سندھو ندی (دریائے سندھ) کو مقدس سمجھتے تھے۔ سندھ کے کئی مسلمان بھی مانتے تھے کہ دریائے سندھ کا پانی مکہ کے آبِ زمزم سے کسی طور کم متبرک نہیں۔ یہ اڈوانی نے کہا ہے۔ پاکستان نے بجا طور پر اس بیان کی سخت مذمت کی ہے اور اسے ’’خیالی اور خطرناک تشددی رویہ‘‘ قرار دیا ہے، کیونکہ جب کسی ملک کے دفاع کا لب و لہجہ جنگی سیاست کو ہوا دے تو اس کا مطلب محض سفارتی تناؤ نہیں بلکہ سوچ کے اس زاویے کی جھلک ہوتی ہے جو حقیقت سے زیادہ خواہشات کے سہارے سیاست چلاتا ہے۔ پاکستان نے بالکل درست کہا کہ یہ بیان ایک ایسے ’’وسعت پسند ہندو توا ذہنیت‘‘ کی عکاسی کرتا ہے جو خطے کی تسلیم شدہ سرحدوں، تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قانون کو چیلنج کرنے کا عادی بنتا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ سیاسی فضا اس ذہنیت کو نہ صرف قبول کر رہی ہے بلکہ اسے قومی بیانیے کی شکل دینے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ اس بیانیے میں تاریخ کو نئی شکل دی جاتی ہے، جغرافیہ کو خواہشات کے مطابق توڑا جاتا ہے، اور سیاست کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی ماحول ہے جس میں ایسے بیانات پھلتے پھولتے ہیں، اور پھر خطے کا امن صرف چند لفظوں کی قیمت پر کمزور ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایسی اشتعال انگیز گفتگو بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ دنیا بھر میں سرحدیں بیانات سے تبدیل نہیں ہوتیں، جنگوں سے بھی کم، بلکہ وہ تاریخی حقائق، عالمی معاہدات اور بین الاقوامی تسلیم شدہ اصولوں کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ سندھ نہ صرف پاکستان کا باقاعدہ، مسلمہ اور آئینی صوبہ ہے بلکہ اس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ایک منفرد تہذیبی سفر رکھتی ہے۔ اس کا تعلق محض جغرافیے سے نہیں بلکہ شناخت، ثقافت اور ایک پوری قوم کے اجتماعی شعور سے ہے۔ اس حقیقت کو محض سیاسی فائدے کے لیے نظرانداز کرنا نہ صرف ناسمجھی بلکہ خطرناک جنون ہے۔

ناگزیر ہے کہ اس بیان کو بھارتی داخلی سیاست کے پس منظر میں سمجھا جائے۔ بھارت میں پچھلی ایک دہائی سے جس نظریے کو سیاسی ترجیح حاصل ہوئی ہے، اس کی بنیاد تاریخ کی نئی تعبیر، مذہب کی سیاسی تفہیم اور خطے میں بالادستی کے خواب پر رکھی گئی ہے۔ ایسے میں پاکستان، چین، نیپال اور سری لنکا کے بارے میں جارحانہ لہجہ اختیار کرنا اس سیاسی سوچ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جسے بھارتی ووٹ بینک کے ایک خاص طبقے کی تائید حاصل ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب ایک ریاست اپنی داخلی شکستوں، اقلیتوں پر ظلم اور معاشرتی عدم توازن کو چھپانا چاہتی ہے تو وہ بیرونی دشمن تراشنے لگتی ہے، اور بھارتی وزیر دفاع کا سندھ کے حوالے سے بیان اسی سفارتی حکمت ِ عملی کی پیداوار ہے۔ پاکستان نے بالکل بجا نشاندہی کی کہ بھارت کو سب سے پہلے اپنے ان شہریوں کی فکر کرنی چاہیے جو اس کی حدود کے اندر محفوظ نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی رپورٹیں مسلسل یہ گواہی دیتی ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر تشدد ایک معمول بن چکا ہے، قانون کے رکھوالے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور نفرت انگیز گروہ کھلے عام دھمکیاں دے کر سیاست میں اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں حکومت کا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ داخلی عدم تحفظ کو کم کرے، نہ کہ بیرونی سرحدوں کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی پیدا کرے۔

علاقائی تناظر میں یہ معاملہ محض پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا مسئلہ ہے۔ یہ خطہ پہلے ہی جوہری ہتھیاروں سے مسلح دو بڑے ممالک کی وجہ سے حساس ہے۔ یہاں ایک غلط فہمی، ایک غلط بیان یا ایک سیاسی جنون کسی بڑے بحران کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہایت دانشمندی سے اس بیان کا جواب سفارتی اصولوں کے تحت دیا تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بھارتی قیادت ایسے بیانات سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ کیا یہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے؟ کیا یہ اکثریتی ووٹ کے جذبات کو بھڑکانے کی حکمت عملی ہے؟ یا پھر یہ خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کا ابتداء ہے؟ ان سوالات کا جواب وہی دے سکتا ہے جس کے پاس بھارت کی سیاسی حرکات کے پیچھے چھپے محرکات تک رسائی ہو، لیکن خطہ ضرور اس کے نتائج بھگت سکتا ہے۔

پاکستان کا ردعمل نہ صرف سفارتی زبان میں متوازن تھا بلکہ خطے کے امن کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی یاد دلایا کہ سرحدی نقشوں سے کھیلنے والے ممالک دراصل اپنی ہی زمین پر موجود خوف کو چھپاتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جو اندر سے کمزور ہو، جہاں اقلیتیں خوفزدہ ہوں، جہاں تاریخ مسخ کی جاتی ہو، جہاں تعلیم سیاسی بیانیے کا آلہ کار بن جائے، وہ ہمیشہ بیرونی دشمنوں کا تصور پیدا کرتا ہے تاکہ اندرونی بگاڑ سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ اس وقت بھارت اسی نفسیاتی کیفیت کا شکار ہے، اور یہی کیفیت خطرے کی گھنٹی ہے۔ پاکستان نے یہ بھی درست کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان عناصر کا احتساب کرے جو نہ صرف اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں بلکہ اسے عملی طور پر انجام بھی دیتے ہیں۔ اگر بھارتی ریاست واقعی ایک جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے تو اسے اپنی اقلیتوں کو وہی حقوق دینے ہوں گے جن کا ذکر وہ بیرونی دنیا میں کرتا ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت کے بیانات، پالیسیاں اور طرزِ حکمرانی اس کے جمہوری تشخص کو نہ صرف کمزور کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان ہمیشہ اس اصول پر قائم رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام، سرحدوں کی حرمت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان نے کبھی بھی توسیع پسند بیانیے کو فروغ نہیں دیا، نہ ہی کسی کے جغرافیے پر دعویٰ کیا۔ اس کی توجہ ہمیشہ خودمختاری، امن، تعاون اور علاقائی ترقی پر رہی ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی جانب سے ایسے بیانات خطے میں بے چینی بڑھاتے ہیں، اور یہ بے چینی مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ امن صرف الفاظ سے نہیں بلکہ رویوں سے قائم ہوتا ہے۔ بھارت اگر واقعی خود کو ایک ذمے دار ریاست سمجھتا ہے تو اسے اپنے وزرا کے بیانات میں سنجیدگی لانی ہوگی، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا، سرحدوں کے احترام کو تسلیم کرنا ہوگا، اور خطے کے پڑوسی ممالک کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی چھوڑنی ہوگی۔ یہی راستہ ہے جو جنوبی ایشیا کو جنگی نفسیات سے نکال سکتا ہے، عوام کو امن کی طرف لے جا سکتا ہے، اور مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ اگر بھارت یہ راستہ اختیار کرے تو خطہ خود بخود استحکام کی طرف جائے گا؛ لیکن اگر اس نے توسیع پسندانہ ذہنیت کو اپنا سیاسی ہتھیار بنائے رکھا تو یہ آگ صرف سرحد پار نہیں بلکہ بھارت کے اپنے اندر بھی پھیلتی چلی جائے گی۔

سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اشتعال انگیز بین الاقوامی کے بارے میں پاکستان نے انڈین وزیر نہیں بلکہ وزیر دفاع کہ بھارت ہیں بلکہ بھارت کی کرتا ہے جاتا ہے دفاع کا سکتا ہے کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا