Jasarat News:
2026-06-03@06:29:53 GMT

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان؛ امن کے لیے خطرہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251129-03-7
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے بارے میں غیر سنجیدہ، غیر حقیقت پسندانہ اور اشتعال انگیز دعویٰ کیا، خطرناک رویے کی تازہ مثال ہے۔ انڈین وزیر ِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا صوبہ سندھ سے متعلق دیا گیا بیان خطرناک حد تک تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ انڈین وزیر دفاع کا یہ بیان اْس ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین، تسلیم شدہ سرحدوں کی حرمت اور ریاستی خودمختاری کی کْھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کے مہینوں بعد بھی سیاسی و عسکری رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات دینے کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے اور انڈین وزیر ِ دفاع کا حالیہ بیان اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین، تجزیہ کاروں نے اس بیان کو پاکستان کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ انڈین وزیر ِ دفاع اتوار کو دہلی میں سندھی سماج سمیلن کے عنوان سے ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کر رہا تھا جس کی متعدد ویڈیوز انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیے ہیں۔ انڈیا کے وزیر ِ دفاع نے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ سندھی ہندو، بالخصوص اْن کی نسل کے لوگ، آج تک سندھ کو انڈیا سے الگ کرنے کو قبول نہیں کر پائے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ناصرف سندھ میں بلکہ پورے انڈیا میں ہندو، سندھو ندی (دریائے سندھ) کو مقدس سمجھتے تھے۔ سندھ کے کئی مسلمان بھی مانتے تھے کہ دریائے سندھ کا پانی مکہ کے آبِ زمزم سے کسی طور کم متبرک نہیں۔ یہ اڈوانی نے کہا ہے۔ پاکستان نے بجا طور پر اس بیان کی سخت مذمت کی ہے اور اسے ’’خیالی اور خطرناک تشددی رویہ‘‘ قرار دیا ہے، کیونکہ جب کسی ملک کے دفاع کا لب و لہجہ جنگی سیاست کو ہوا دے تو اس کا مطلب محض سفارتی تناؤ نہیں بلکہ سوچ کے اس زاویے کی جھلک ہوتی ہے جو حقیقت سے زیادہ خواہشات کے سہارے سیاست چلاتا ہے۔ پاکستان نے بالکل درست کہا کہ یہ بیان ایک ایسے ’’وسعت پسند ہندو توا ذہنیت‘‘ کی عکاسی کرتا ہے جو خطے کی تسلیم شدہ سرحدوں، تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قانون کو چیلنج کرنے کا عادی بنتا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ سیاسی فضا اس ذہنیت کو نہ صرف قبول کر رہی ہے بلکہ اسے قومی بیانیے کی شکل دینے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ اس بیانیے میں تاریخ کو نئی شکل دی جاتی ہے، جغرافیہ کو خواہشات کے مطابق توڑا جاتا ہے، اور سیاست کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی ماحول ہے جس میں ایسے بیانات پھلتے پھولتے ہیں، اور پھر خطے کا امن صرف چند لفظوں کی قیمت پر کمزور ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایسی اشتعال انگیز گفتگو بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ دنیا بھر میں سرحدیں بیانات سے تبدیل نہیں ہوتیں، جنگوں سے بھی کم، بلکہ وہ تاریخی حقائق، عالمی معاہدات اور بین الاقوامی تسلیم شدہ اصولوں کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ سندھ نہ صرف پاکستان کا باقاعدہ، مسلمہ اور آئینی صوبہ ہے بلکہ اس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ایک منفرد تہذیبی سفر رکھتی ہے۔ اس کا تعلق محض جغرافیے سے نہیں بلکہ شناخت، ثقافت اور ایک پوری قوم کے اجتماعی شعور سے ہے۔ اس حقیقت کو محض سیاسی فائدے کے لیے نظرانداز کرنا نہ صرف ناسمجھی بلکہ خطرناک جنون ہے۔

ناگزیر ہے کہ اس بیان کو بھارتی داخلی سیاست کے پس منظر میں سمجھا جائے۔ بھارت میں پچھلی ایک دہائی سے جس نظریے کو سیاسی ترجیح حاصل ہوئی ہے، اس کی بنیاد تاریخ کی نئی تعبیر، مذہب کی سیاسی تفہیم اور خطے میں بالادستی کے خواب پر رکھی گئی ہے۔ ایسے میں پاکستان، چین، نیپال اور سری لنکا کے بارے میں جارحانہ لہجہ اختیار کرنا اس سیاسی سوچ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جسے بھارتی ووٹ بینک کے ایک خاص طبقے کی تائید حاصل ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب ایک ریاست اپنی داخلی شکستوں، اقلیتوں پر ظلم اور معاشرتی عدم توازن کو چھپانا چاہتی ہے تو وہ بیرونی دشمن تراشنے لگتی ہے، اور بھارتی وزیر دفاع کا سندھ کے حوالے سے بیان اسی سفارتی حکمت ِ عملی کی پیداوار ہے۔ پاکستان نے بالکل بجا نشاندہی کی کہ بھارت کو سب سے پہلے اپنے ان شہریوں کی فکر کرنی چاہیے جو اس کی حدود کے اندر محفوظ نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی رپورٹیں مسلسل یہ گواہی دیتی ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر تشدد ایک معمول بن چکا ہے، قانون کے رکھوالے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور نفرت انگیز گروہ کھلے عام دھمکیاں دے کر سیاست میں اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں حکومت کا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ داخلی عدم تحفظ کو کم کرے، نہ کہ بیرونی سرحدوں کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی پیدا کرے۔

علاقائی تناظر میں یہ معاملہ محض پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا مسئلہ ہے۔ یہ خطہ پہلے ہی جوہری ہتھیاروں سے مسلح دو بڑے ممالک کی وجہ سے حساس ہے۔ یہاں ایک غلط فہمی، ایک غلط بیان یا ایک سیاسی جنون کسی بڑے بحران کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہایت دانشمندی سے اس بیان کا جواب سفارتی اصولوں کے تحت دیا تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بھارتی قیادت ایسے بیانات سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ کیا یہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے؟ کیا یہ اکثریتی ووٹ کے جذبات کو بھڑکانے کی حکمت عملی ہے؟ یا پھر یہ خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کا ابتداء ہے؟ ان سوالات کا جواب وہی دے سکتا ہے جس کے پاس بھارت کی سیاسی حرکات کے پیچھے چھپے محرکات تک رسائی ہو، لیکن خطہ ضرور اس کے نتائج بھگت سکتا ہے۔

پاکستان کا ردعمل نہ صرف سفارتی زبان میں متوازن تھا بلکہ خطے کے امن کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی یاد دلایا کہ سرحدی نقشوں سے کھیلنے والے ممالک دراصل اپنی ہی زمین پر موجود خوف کو چھپاتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جو اندر سے کمزور ہو، جہاں اقلیتیں خوفزدہ ہوں، جہاں تاریخ مسخ کی جاتی ہو، جہاں تعلیم سیاسی بیانیے کا آلہ کار بن جائے، وہ ہمیشہ بیرونی دشمنوں کا تصور پیدا کرتا ہے تاکہ اندرونی بگاڑ سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ اس وقت بھارت اسی نفسیاتی کیفیت کا شکار ہے، اور یہی کیفیت خطرے کی گھنٹی ہے۔ پاکستان نے یہ بھی درست کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان عناصر کا احتساب کرے جو نہ صرف اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں بلکہ اسے عملی طور پر انجام بھی دیتے ہیں۔ اگر بھارتی ریاست واقعی ایک جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے تو اسے اپنی اقلیتوں کو وہی حقوق دینے ہوں گے جن کا ذکر وہ بیرونی دنیا میں کرتا ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت کے بیانات، پالیسیاں اور طرزِ حکمرانی اس کے جمہوری تشخص کو نہ صرف کمزور کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان ہمیشہ اس اصول پر قائم رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام، سرحدوں کی حرمت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان نے کبھی بھی توسیع پسند بیانیے کو فروغ نہیں دیا، نہ ہی کسی کے جغرافیے پر دعویٰ کیا۔ اس کی توجہ ہمیشہ خودمختاری، امن، تعاون اور علاقائی ترقی پر رہی ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی جانب سے ایسے بیانات خطے میں بے چینی بڑھاتے ہیں، اور یہ بے چینی مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ امن صرف الفاظ سے نہیں بلکہ رویوں سے قائم ہوتا ہے۔ بھارت اگر واقعی خود کو ایک ذمے دار ریاست سمجھتا ہے تو اسے اپنے وزرا کے بیانات میں سنجیدگی لانی ہوگی، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا، سرحدوں کے احترام کو تسلیم کرنا ہوگا، اور خطے کے پڑوسی ممالک کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی چھوڑنی ہوگی۔ یہی راستہ ہے جو جنوبی ایشیا کو جنگی نفسیات سے نکال سکتا ہے، عوام کو امن کی طرف لے جا سکتا ہے، اور مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ اگر بھارت یہ راستہ اختیار کرے تو خطہ خود بخود استحکام کی طرف جائے گا؛ لیکن اگر اس نے توسیع پسندانہ ذہنیت کو اپنا سیاسی ہتھیار بنائے رکھا تو یہ آگ صرف سرحد پار نہیں بلکہ بھارت کے اپنے اندر بھی پھیلتی چلی جائے گی۔

سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اشتعال انگیز بین الاقوامی کے بارے میں پاکستان نے انڈین وزیر نہیں بلکہ وزیر دفاع کہ بھارت ہیں بلکہ بھارت کی کرتا ہے جاتا ہے دفاع کا سکتا ہے کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان

بھارتی ریاست آسام میں قدرت کے انوکھے مظاہر میں شمار ہونے والے ہولونگ درخت کے منفرد ’ہیلی کاپٹر پھل‘ ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟

ڈیپٹیروکارپس ریٹوسس المعروف ہولونگ ایک مضبوط اور بلند قامت درخت ہے جو تقریباً 60 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔ یہ درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے اور مقامی ثقافتوں میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ اس کی لکڑی تعمیرات، فرنیچر سازی اور کشتیوں کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔

Hollong seeds are a stunning local example of nature's autorotating 'helicopters'! ????????

Globally, maple samaras inspired much of the research into this principle for real helicopters and drones.
The origin of helicopter autorotation (and modern drone/micro-flyer designs) is… https://t.co/jKXLuMq5nR

— Chinnu Senthilkumar (@chinnusenthil1) May 20, 2026

اس درخت کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کے 2 پروں والے پھل ہیں جو شاخوں سے گرنے کے دوران ننھے ہیلی کاپٹر کی طرح گھومتے ہوئے نیچے آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ قدرتی نظام بیجوں کو درخت سے دور زرخیز زمین تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے جہاں ان کی افزائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کچھ درخت جان بوجھ کر آسمانی بجلی کو گرنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟

خشک موسم میں جب درجنوں یہ پھل آسمان سے گھومتے ہوئے زمین کی طرف اترتے ہیں تو یہ منظر دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

حال ہی میں ایسے ہی ایک منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے اس قدرتی مظہر کو عالمی توجہ دلائی۔

مزید پڑھیں: فضائی کمپنی نے مسافر کو جہاز سے اترجانے کے لیے 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کیوں کی؟

بھارتی ریاست آسام کو اس نظارے کے لیے بہترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہولونگ وہاں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہولونگ کو آسام کا سرکاری درخت بھی قرار دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنوب مشرقی ایشیا جنوب مشرقی ایشیا کا حیرت انگیز درخت ہولونگ درخت ہولونگ درخت کے ہیلی کاپٹر پھل‘ ہیلی کاپٹر پھل

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان