افغانستان بھارت و اسرائیل کے ہاتھوں کھیل رہا ہے، فیصل کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
پشاور:(نیوزڈیسک)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے افغان حکومت کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔
خیبرپختونخوا کے علاقے ترکئی، جلبئی اور دیگر مقامات پر بجلی گرڈ اسٹیشن اور دیگر منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےگورنر فیصل کریم کنڈی نے افغان مہاجرین کی پاکستان سے انخلا کے حوالے سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے باشندے بے شک عالمی قوانین کے مطابق ویزے پر تجارت اور سیاحت کے لیے پاکستان آ اور جا سکتے ہیں لیکن ویزے کے بغیر غیر قانونی طور پر قیام نہیں کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستانی دنیا کے ہر ملک میں ویزے پر آتے جاتے ہیں اسی طرح قانون افغان باشندوں کے لیے بھی ہے، وہ ہمارے بہن بھائی ہیں ہمیشہ پاکستان میں بطور مہاجرین قیام ان کی خوب مہمان نوازی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج افغانستان اسرائیل اور بھارت کے ہاتھوں کھیل رہا ہے اور وہاں کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے امن کے لیے جام شہادت نوش کی۔
گورنر کے پی نے کہا کہ جب پاکستان میں امن ہو گا تو ملک میں ترقی اور خوش حالی ہوگی، خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن لانے کے لیے ہم پرعزم ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قیادت کی جانب سے ہری پور ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان پولنگ اسٹیشنوں میں ڈیوٹی کرنے والے تو صوبائی حکومت کے محکموں صحت، تعلیم اور دیگر کے ملازمین ہی تھے تو پھر الیکشن میں دھاندلی کہاں سے ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن جانا اچھی بات ہے اسی طرح پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کا پر امن احتجاج ان کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنچاب میں بھی پی پی پی کے امیدواروں نے پریس کانفرنس اور شکوہ کرکے کہا کہ وہ دھاندلی کے خلاف ثبوتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے، پی پی پی ہمیشہ سے یہ کہتے ہوئے چلی آرہی ہے کہ ملک میں عام انتخابات شفاف، آزادانہ اور غیر جانب درانہ ہونے چاہئیں تاکہ عوام اپنے پسند کے نمائندے منتخب کر سکیں۔
فیصل کریم کندی نے کہا کہ اپوزیشن 27 ویں ترمیم پر جو اعتراض کررہی ہے تو آج، کل اور کسی کی حکومت آکر اس کے بعد اور ترامیم کرے گی۔
گورنر نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں تو لوگ سڑکوں، روڈز اور پلوں کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ یہ صوبائی حکومت کے کام ہیں، مجھے صوابی میں کسی بھی جگہ ڈبل روڈ نظر نہیں آیا، ہم پر گیس اور بجلی مرکز کے محکمے قرار دینے والوں کی پی ٹی آئی اس صوبے پر مسلسل 13 برسوں سے حکومت کررہی ہے مگر اب تک کچھ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم کہہ رہے تھے کہ پی ٹی آئی وعدوں کے مطابق صوابی سمیت پورا خیبرپختونخوا سوئٹزرلینڈ بن جائے گا لیکن وہاں اب تک کھنڈرات ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے علاوہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈز سمیت جو وفاق کے ادارے ہیں مسائل حل کریں گے، اگرچہ مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور پی پی پی اتحادی ہے اور میں وقتاً فوقتاً وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ صوبے کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی وزرا سے ملتا رہتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔