جہیز سے انکار، دلہا نے 31 لاکھ کا جہیز ٹھکرا کر مثال قائم کردی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
بھارت کے اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں ایک نوجوان دلہے کے غیر معمولی فیصلے نے سوشل میڈیا پر بھرپور داد سمیٹ لی ہے۔
شادی کی تقریب کے دوران دلہے نے دلہن کے اہل خانہ کی جانب سے دیا جانے والا 31 لاکھ روپے کا جہیز لینے سے صاف انکار کرتے ہوئے محض ایک روپیہ قبول کیا، جسے صارفین جہیز کے خلاف ایک مضبوط اور باوقار پیغام قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اودھیش رانا کی شادی 22 نومبر کو شہاب الدین پور گاؤں کی رہائشی ادیتی سنگھ سے مقامی بینکوئٹ ہال میں انجام پائی۔ تلک کی رسم کے دوران دلہن کے اہل خانہ نے روایتی طور پر 31 لاکھ روپے بطور جہیز پیش کیے، تاہم اودھیش نے سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر یہ رقم لینے سے انکار کردیا اور جہیز کے خلاف اپنا دو ٹوک مؤقف ظاہر کیا۔
View this post on Instagramاودھیش رانا نے بتایا کہ وہ ناگوا کے رہنے والے ہیں اور ان کا خاندان ہمیشہ سے جہیز کے رواج کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہمیں 31 لاکھ روپے دیے جا رہے تھے لیکن ہم نے وہ رقم واپس کردی۔ ہمارا ماننا ہے کہ جہیز کا نظام غلط ہے اور اسے مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے۔‘‘
دلہے کا یہ بھی کہنا تھا کہ شادی جیسا پاکیزہ رشتہ کسی مالی بوجھ پر قائم نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی کسی باپ کو اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرض لینے پر مجبور ہونا چاہیے۔ اودھیش نے مزید کہا کہ چونکہ ان کا رشتہ محض ایک روپے کی رسم پر قائم ہوا، اس سے زیادہ لینا وہ اخلاقی طور پر درست نہیں سمجھتے۔
https://www.reddit.com/r/CriticalThinkingIndia/comments/1p8k47j/up_groom_returns_31_lakh_dowry_says_he_cant_take/?seeker-session=true
اودھیش کے اس عمل نے تقریب میں موجود افراد سمیت سوشل میڈیا صارفین کو بھی بے حد متاثر کیا، اور اسے معاشرتی اصلاح کے لیے ایک جرأت مندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
پنجاب حکومت(Punjab government) کے اپنی چھت محفوظ چھت 2026 پروگرام کے تحت 5 اور 10 لاکھ روپے کے بِلا سود قرض فراہم کیے جا رہے ہیں۔
پنجاب حکومت نے لوگوں کو اپنے موجودہ گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے اپنی چھت، محفوظ چھت (میری چھت، محفوظ چھت) اسکیم 2026 کا آغاز کیا ہے جس کے تحت 5 سے 10 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
اس حکومتی منصوبے کے تحت قرض کے دو مختلف کٹیگریز میں دیے جائیں گے۔
وہ شہری جو اپنی موجودہ چھتوں کی مرمت یا گھر کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 5 لاکھ روپے قرض دیا جائے گا جو انہیں 9 سال میں صرف 4،700 روپے ماہانہ قسط کی صورت ادا کرنا ہوگا۔
وہ شہری جو اپنے گھروں کی توسیع (دوسری منزل) کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، انہیں 10 لاکھ روپے بلاسود قرض دیا جائے گا اور اس کی مدت واپسی بھی 9 سال ہے۔ اس قرض کی ماہانہ قسط 9،300 روپے ہوگی۔
مزیدپڑھیں:ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
آن لائن اپلائی کرنے کا طریقہ:
دلچسپی رکھنے والے شہری acag.punjab.gov.pk کے ذریعے اپنی چھت، محفوظ چھت لون سکیم کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ پروگرام کے لیے رجسٹر ہونے کے لیے انہیں اپنی اسناد داخل کرنے کی ضرورت ہے۔
درخواست دہندگان ہاتھ سے لکھی درخواست بھی جمع کرا سکتے ہیں۔
وہ لوگ کمپیوٹر استعمال نہیں کر سکتے وہ اپنی قرض کی درخواستیں ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرائیں۔