Express News:
2026-07-24@05:23:05 GMT

خیبرپختونخوا حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس میں امن و امان پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان آپس میں الجھ پڑے، امن و امان کی ابتر صورتحال کا ذمہ دار  صوبائی حکومت نے وفاق جبکہ اپوزیشن نے صوبائی حکومت کو حالات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی بڑھ رہی ہے، وفاق دہشت گردی کے خاتمے کا حل مذاکرات سے نکالے جبکہ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا امن وامان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اگر حکومت امن قائم نہیں کرسکتی تو مستعفی ہوجائے۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے خطاب کے دوران ہی اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر اجلاس یکم دسمبر تک ملتوی کردیا گیا۔

خیبر پختونخواہ اسمبلی اجلاس کے دوران امن و امان پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومتی ارکان ڈاکٹر امجد ، نیک محمد، عجب گل، ریاض خان، فضل حکیم نے ایف سی ہیڈکوارٹر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم روزانہ امن وامان پر بات کرتے ہیں ہمارا مقصد کسی ادارے کو نشانہ بنانا نہیں ہم ذمہ داری کی نشاندہی کرتے ہیں، ہم سب کا سوال ہے سرحد پار سے دہشت گرد کیسے آتے ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 38 سو سے 41 سو تک دہشت گرد ہیں، سرحد پار سے دہشت گردوں کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے، سیکورٹی ایجنسیاں تحریک انصاف کی بے عزتی مقدمات کے اندراج میں لگی ہوئے ہیں، جب  آگ پھیلتی ہے تو اس کی لپیٹ میں سب آتے ہیں۔

حکومتی ارکان نے کہا کہ دہشت گردی سے عام عوام اور سیکورٹی فورسز کے جوان بھی متاثر ہورہے ہیں ، دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں 57 ہزار خواتین بیوہ ہوچکی ہیں جبکہ ڈھائی لاکھ بچے یتیم اور دس ہزار لوگ معذور ہیں، ہم پوچھنا چاہتے ہیں اسی خطے کو کیوں ٹارگٹ کیا جارہا ہے؟۔

حکومتی ارکان نے کہا کہ ہم بات کرتے ہیں تو نوٹس ملتے ہیں ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، اس صوبے میں آپریشن ہوتے ہیں لیکن فائدہ کچھ نہیں تو پھر مذاکرات کی طرف کیوں نہیں جاتے؟ یہ صوبہ دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہے گا، 2013 سے قبل صوبے پر کس کی حکومت تھی، 66 سالوں میں ایسے مسائل کو ایوان میں نہیں اٹھایا گیا۔

نواز لیگ کے ایم پی اے کے خلاف اسلام آباد اور حیات اباد تھانے میں منشیات کے مقدمے درج ہیں، وفاقی حکومت نے شراب کے لائسنس جاری کیے، کیا قبائل میں منشیات کی پیداوار اب سے ہے، 2018 سے قبل وفاق کی عمل داری تھی۔

اپوزیشن ارکان سردار شاہجہاں، مخدوم زادہ آفتاب حیدر،  جلال خان نے کہا کہ این اے 18 ہری پور کے ضمنی الیکشن صاف اور شفاف ہوئے، عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، فارم 47 کا فائدہ کس کو ہوا؟

انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں فارم 47 سے تحریک انصاف حکومت بنارہی ہے، ہمارے سیکیورٹی ادارے سرحد کو محفوظ بنائے ہوئے ہیں انہوں نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جب ملک سلامت ہوگا ہم سیاست کریں گے ہماری حالت وہ ہوگی فلسطین اور کشمیری مسلمانوں کا ہے۔

اپوزیشن اراکین نے کہا کہ خاکی وردی کا دفاع کرنا ہوگا۔ جلال خان نے کہا کہ میرے اوپر سیون اے ٹی اے کی ایف آئی ار نہیں ہوئی، سی ایم کے بھتیجے پر منشیات کے پرچے ہیں امن و امان پر سیاست کی جارہی ہے، اس میں ہم سب جل رہے ہیں امن وامان صوبے کی ذمہ داری ہے امن قائم نہیں کرسکتے تو استعفے دیں ساڑھے سات سو ارب روپے وفاق سے آئے صوبائی حکومت حساب دیں۔

انہوں نے کہا ہک خیبرپختونخوا حکومت نے چوروں کا ٹولہ بیٹھا ہوا ہے، ہری پور میں صاف و شفاف الیکشن ہوئے، ہری پور کی عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ عمران خان کے نام پر چورن نہیں بیچ سکتے، دہشت گردی کی وجوہات بےروزگاری، مہنگائی اور تعلیم ہے، کیا صوبائی حکومت نے 2013 سے بے روزگاری کے خاتمے،  مہنگائی کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کیا ہے؟

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ امن کے دشمن کون ہیں سب کو معلوم ہے، جو خود فارم 47 سے جیت کر آئے اس پر افسوس کی کیا جاسکتا ہے، وفاقی حکومت کے حوالے سے  آئی ایم ایف کی رپورٹ شرمناک ہے، آئی ایم ایف کو ہم وفاقی حکومت کے دوست سمجھتے ہیں ان کی رہورٹ شرمناک پے،  ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیسے  دیے گئے اس کا حساب مانگا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بجلی کے خالص منافع سمیت ہمارا حق نہیں دیا جارہا ہے، وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نقصان اس صوبے کو ہورہا ہے، ابھی ہم مارشل لاء کے بدترین دور سے بھی گزررہے پیں،  پیپلزپارٹی والے فخر سے کہتے ہیں ہم نے آئین دیا نواز لیگ کے ساتھ ملکر آئین کو دفن کردیا گیا۔

وزیر قانون کا خطاب جاری تھا کہ جلال خان نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر دومنٹ کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس یکم دسمبر تک ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صوبائی حکومت حکومتی ارکان انہوں نے کہا وفاقی حکومت نے کہا کہ جارہا ہے کے دوران حکومت نے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان