خیبرپختونخوا حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس میں امن و امان پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان آپس میں الجھ پڑے، امن و امان کی ابتر صورتحال کا ذمہ دار صوبائی حکومت نے وفاق جبکہ اپوزیشن نے صوبائی حکومت کو حالات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی بڑھ رہی ہے، وفاق دہشت گردی کے خاتمے کا حل مذاکرات سے نکالے جبکہ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا امن وامان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اگر حکومت امن قائم نہیں کرسکتی تو مستعفی ہوجائے۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے خطاب کے دوران ہی اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر اجلاس یکم دسمبر تک ملتوی کردیا گیا۔
خیبر پختونخواہ اسمبلی اجلاس کے دوران امن و امان پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومتی ارکان ڈاکٹر امجد ، نیک محمد، عجب گل، ریاض خان، فضل حکیم نے ایف سی ہیڈکوارٹر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم روزانہ امن وامان پر بات کرتے ہیں ہمارا مقصد کسی ادارے کو نشانہ بنانا نہیں ہم ذمہ داری کی نشاندہی کرتے ہیں، ہم سب کا سوال ہے سرحد پار سے دہشت گرد کیسے آتے ہیں؟۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 38 سو سے 41 سو تک دہشت گرد ہیں، سرحد پار سے دہشت گردوں کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے، سیکورٹی ایجنسیاں تحریک انصاف کی بے عزتی مقدمات کے اندراج میں لگی ہوئے ہیں، جب آگ پھیلتی ہے تو اس کی لپیٹ میں سب آتے ہیں۔
حکومتی ارکان نے کہا کہ دہشت گردی سے عام عوام اور سیکورٹی فورسز کے جوان بھی متاثر ہورہے ہیں ، دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں 57 ہزار خواتین بیوہ ہوچکی ہیں جبکہ ڈھائی لاکھ بچے یتیم اور دس ہزار لوگ معذور ہیں، ہم پوچھنا چاہتے ہیں اسی خطے کو کیوں ٹارگٹ کیا جارہا ہے؟۔
حکومتی ارکان نے کہا کہ ہم بات کرتے ہیں تو نوٹس ملتے ہیں ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، اس صوبے میں آپریشن ہوتے ہیں لیکن فائدہ کچھ نہیں تو پھر مذاکرات کی طرف کیوں نہیں جاتے؟ یہ صوبہ دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہے گا، 2013 سے قبل صوبے پر کس کی حکومت تھی، 66 سالوں میں ایسے مسائل کو ایوان میں نہیں اٹھایا گیا۔
نواز لیگ کے ایم پی اے کے خلاف اسلام آباد اور حیات اباد تھانے میں منشیات کے مقدمے درج ہیں، وفاقی حکومت نے شراب کے لائسنس جاری کیے، کیا قبائل میں منشیات کی پیداوار اب سے ہے، 2018 سے قبل وفاق کی عمل داری تھی۔
اپوزیشن ارکان سردار شاہجہاں، مخدوم زادہ آفتاب حیدر، جلال خان نے کہا کہ این اے 18 ہری پور کے ضمنی الیکشن صاف اور شفاف ہوئے، عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، فارم 47 کا فائدہ کس کو ہوا؟
انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں فارم 47 سے تحریک انصاف حکومت بنارہی ہے، ہمارے سیکیورٹی ادارے سرحد کو محفوظ بنائے ہوئے ہیں انہوں نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جب ملک سلامت ہوگا ہم سیاست کریں گے ہماری حالت وہ ہوگی فلسطین اور کشمیری مسلمانوں کا ہے۔
اپوزیشن اراکین نے کہا کہ خاکی وردی کا دفاع کرنا ہوگا۔ جلال خان نے کہا کہ میرے اوپر سیون اے ٹی اے کی ایف آئی ار نہیں ہوئی، سی ایم کے بھتیجے پر منشیات کے پرچے ہیں امن و امان پر سیاست کی جارہی ہے، اس میں ہم سب جل رہے ہیں امن وامان صوبے کی ذمہ داری ہے امن قائم نہیں کرسکتے تو استعفے دیں ساڑھے سات سو ارب روپے وفاق سے آئے صوبائی حکومت حساب دیں۔
انہوں نے کہا ہک خیبرپختونخوا حکومت نے چوروں کا ٹولہ بیٹھا ہوا ہے، ہری پور میں صاف و شفاف الیکشن ہوئے، ہری پور کی عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ عمران خان کے نام پر چورن نہیں بیچ سکتے، دہشت گردی کی وجوہات بےروزگاری، مہنگائی اور تعلیم ہے، کیا صوبائی حکومت نے 2013 سے بے روزگاری کے خاتمے، مہنگائی کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کیا ہے؟
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ امن کے دشمن کون ہیں سب کو معلوم ہے، جو خود فارم 47 سے جیت کر آئے اس پر افسوس کی کیا جاسکتا ہے، وفاقی حکومت کے حوالے سے آئی ایم ایف کی رپورٹ شرمناک ہے، آئی ایم ایف کو ہم وفاقی حکومت کے دوست سمجھتے ہیں ان کی رہورٹ شرمناک پے، ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیسے دیے گئے اس کا حساب مانگا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بجلی کے خالص منافع سمیت ہمارا حق نہیں دیا جارہا ہے، وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نقصان اس صوبے کو ہورہا ہے، ابھی ہم مارشل لاء کے بدترین دور سے بھی گزررہے پیں، پیپلزپارٹی والے فخر سے کہتے ہیں ہم نے آئین دیا نواز لیگ کے ساتھ ملکر آئین کو دفن کردیا گیا۔
وزیر قانون کا خطاب جاری تھا کہ جلال خان نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر دومنٹ کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس یکم دسمبر تک ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت حکومتی ارکان انہوں نے کہا وفاقی حکومت نے کہا کہ جارہا ہے کے دوران حکومت نے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔