امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور مسلسل رابطے کی کوشش کر رہا ہے۔

منگل کی شب وائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اعزاز میں دیے گئے خصوصی عشائیے میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا

وہ (ایران) ہمارے ساتھ بہت چاہ سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہمیں کال کرتے ہیں، اور غالباً ہم ایک معاہدہ کر ہی لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں ہم تیار ہیں، آپ بھی تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کی ایران کو امن معاہدہ کرنے کی ترغیب

صدر ٹرمپ کے یہ تبصرے ان کے اسی روز کیے گئے پہلے بیان کے ہم آہنگ ہیں، جب انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سعودی ولی عہد کے ساتھ اوول آفس میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا
ایران کے ساتھ معاہدہ ہونا ایک اچھی بات ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے آئندہ ہفتے مذاکرات: ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

محمد بن سلمان نے بھی کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے لیے تعاون کرنے کی کوشش کریں گے۔

ٹرمپ نے آخر میں واضح کیا کہ میں اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی