امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور مسلسل رابطے کی کوشش کر رہا ہے۔

منگل کی شب وائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اعزاز میں دیے گئے خصوصی عشائیے میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا

وہ (ایران) ہمارے ساتھ بہت چاہ سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہمیں کال کرتے ہیں، اور غالباً ہم ایک معاہدہ کر ہی لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں ہم تیار ہیں، آپ بھی تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کی ایران کو امن معاہدہ کرنے کی ترغیب

صدر ٹرمپ کے یہ تبصرے ان کے اسی روز کیے گئے پہلے بیان کے ہم آہنگ ہیں، جب انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سعودی ولی عہد کے ساتھ اوول آفس میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا
ایران کے ساتھ معاہدہ ہونا ایک اچھی بات ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے آئندہ ہفتے مذاکرات: ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

محمد بن سلمان نے بھی کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے لیے تعاون کرنے کی کوشش کریں گے۔

ٹرمپ نے آخر میں واضح کیا کہ میں اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ