جاپان میں بھالوؤں کو آبادی سے دور رکھنے کیلیے خوفناک آوازوں والے ڈرون متعارف
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو: جاپان میں جنگلی حیات اور انسانی آبادی کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نے حکام کو ایک نئے اور منفرد حل پر مجبور کردیا ہے، جہاں جنگلی بھالوؤں کو بستیوں سے دور رکھنے کے لیے جدید ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں خصوصاً پہاڑی علاقوں میں بھالوؤں کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے مقامی آبادی کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہی حالات کے پیش نظر ضلع گِفو کی مقامی انتظامیہ نے ایک پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کے نتائج نہ صرف سائنسی اعتبار سے اہم تصور کیے جا رہے ہیں بلکہ یہ قدم انسانوں اور جانوروں کے درمیان پُرامن فاصلے کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔
گِفو حکام کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے بھالوؤں کے آبادی کے قریب دکھائی دینے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بنیادی وجہ جنگلات میں ان کی خوراک میں کمی ہے۔
ماہرین جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں موسم کی تبدیلی اور خوراک کی کمی کے باعث بھالو اپنے قدرتی مسکن سے نکل کر انسانی بستیوں کے آس پاس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف دیہی علاقوں میں آبادی گھٹنے سے انسانی سرگرمی کم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے جنگلی جانور نسبتاً بے خوف ہو کر گاؤں اور قصبوں کے قریب آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ان بڑھتے خطرات کے مقابلے میں جاپانی حکام نے ڈرونز کو نیا حفاظتی ہتھیار بنایا ہے، جن میں نصب اسپیکرز سے شکاری کتوں کی تیز اور گونج دار آوازیں دی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آوازیں بھالوؤں میں فطری خوف پیدا کرتی ہیں اور وہ فوری طور پر گھنے جنگلات کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ ڈرونز میں ہلکی نوعیت کے آتشبازی آلات بھی نصب کیے گئے ہیں، جن کی آواز بھالوؤں کو مزید خوفزدہ کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام آلات غیر مہلک ہیں اور مقصد صرف جانوروں کو دور کرنا ہے، نقصان پہنچانا ہرگز نہیں۔
ڈرونز کا استعمال زیادہ تر ان علاقوں میں کیا جا رہا ہے جہاں بھالوؤں کی نقل و حرکت کے نشانات، جیسے تازہ پنجوں کے نشانات یا پھل توڑنے کی علامات، واضح طور پر موجود ہوں۔
ان ڈرونز کو فوری ردّعمل کے لیے تیار رکھا جاتا ہے تاکہ جیسے ہی بھالو کی موجودگی کی اطلاع موصول ہو، انہیں فورا فضا میں بھیج کر صورتحال قابو کی جا سکے۔ گِفو حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تجربات حوصلہ افزا ہیں اور اگر یہ طریقہ مؤثر ثابت ہوا تو اسے دیگر اضلاع میں بھی نافذ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر