Juraat:
2026-07-24@06:31:18 GMT

پاکستانیوں کی برطانیہ میں پناہ کی درخواستوں میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

پاکستانیوں کی برطانیہ میں پناہ کی درخواستوں میں اضافہ

گزشتہ برس 10ہزار پاکستانی شہریوںکی برطانیہ میں داخل ہوکر پناہ کی درخواستیں
چھٹیوں، ورک اور اسٹوڈنٹ ویزوں میں موجود قانونی خلا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں

برطانیہ میں جاری کردہ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہری چھٹیوں، ورک اور اسٹوڈنٹ ویزوں میں موجود قانونی خلا کا فائدہ اٹھا کر بڑی تعداد میں پناہ کی درخواستیں دائر کر رہے ہیں جس کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کے اسائلم کلیمز ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس تقریباً 10 ہزار پاکستانی شہری ایسے تھے جو برطانیہ میں پہلے قانونی ویزے کے تحت داخل ہوئے تاہم قیام کے دوران انہوں نے ویزا تبدیل کر کے پناہ کے لیے درخواست دے دی۔ اس رجحان کو برطانوی حکام "سسٹم کے غلط استعمال” کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ پناہ کی درخواست دینے والے پاکستانیوں میں سب سے زیادہ وہ افراد شامل ہیں جو اسٹوڈنٹ ویزا پر داخل ہوئے تھے ۔ تقریباً 6 ہزار سے زائد افراد نے طالب علمی ویزے کو پناہ میں تبدیل کیا جبکہ ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد نے ورک ویزے سے اپنا اسٹیٹس بدلا جبکہ وزیٹر ویزے پر آنے والے پاکستانیوں میں سے بھی سیکڑوں افراد نے برطانیہ پہنچ کر اسائلم دائر کیا۔برطانوی امیگریشن ریکارڈز کے مطابق گزشتہ برس مجموعی طور پر پناہ کی درخواستیں دینے والے مختلف ممالک کے افراد میں پاکستانی سرفہرست رہے ۔ اس سے پہلے یہ رجحان زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے آنے والے افراد میں دیکھا جاتا تھا، لیکن 25ـ۔2024میں پاکستانی شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ مائیگریشن پیٹر والِش کے مطابق پاکستان میں معاشی مشکلات، سیاسی بے یقینی، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور سیکیورٹی خدشات ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے لوگ قانونی ویزوں کے ذریعے برطانیہ پہنچ کر اسائلم کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔برطانوی اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق کچھ پاکستانی ایجنٹس بھاری رقوم کے عوض جعلی سپورٹنگ ڈاکومنٹس فراہم کرتے ہیں جن کی مدد سے لوگ قانونی ویزا حاصل کر لیتے ہیں اور بعد میں پناہ کی درخواست دائر کر دیتے ہیں۔ کچھ رپورٹس میں رقم 50 ہزار پاؤنڈ تک بتائی گئی ہے ۔حکومت ِ برطانیہ پناہ کے نظام میں بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر قوانین سخت کرنے پر غور کر رہی ہے مجوزہ تجاویز میں عارضی ویزے سے پناہ کا دعویٰ کرنے والوں کی درخواست فوری طور پر نہ سنی جائے ، اوور اسٹے اور اسٹیٹس تبدیلی کے کیسز میں سخت جانچ اور ایسے افراد کیلئے حکومتی رہائش کی فراہمی کو محدود کیا جائے دوسری جانب انسانی حقوق کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غیر معمولی سختی سے جائز درخواست گزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پناہ کی درخواست برطانیہ میں کے مطابق رہے ہیں

پڑھیں:

سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد

لندن، لاہور (نمائندہ خصوصی، خصوصی نامہ نگار) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور برطانیہ کے نئے وزیر تجارت مقرر ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انس سرور کو وزیر تجارت مقرر کر دیا ہے۔ وہ اپنی نئی تقرری کے بعد ہاؤس آف لارڈ کے ممبر بھی بن جائیں گے۔ انس سرور کو برطانیہ کے تینوں ہاؤسز کا ممبر بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، وہ اس سے پہلے برطانوی سیاست میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ برطانیہ بھر میں پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی