بھارتی ثقافت اپنائیں تو مسلمان اور عیسائی بھی ہندو ہیں، آر ایس ایس چیف کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ہندو مت کو صرف مذہبی معنوں تک محدود نہ سمجھا جائے، یہ ایک جامع اور ہمہ گیر تصور ہے۔
ان کے مطابق اگر مسلمان اور مسیحی اس ملک کی عبادت کرتے ہیں، بھارتی تہذیب و ثقافت کی پیروی کرتے ہیں، تو اپنی روایات اور رسوم چھوڑے بغیر بھی وہ ہندو کہلائے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: ’آئی لو محمدﷺ‘ کہنے پر مقدمات، مسلمانوں کے خلاف نیا کریک ڈاؤن
آسام کے دورے کے موقع پر موہن بھاگوت آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں دانشوروں، اسکالروں، ایڈیٹرز، قلمکاروں اور کاروباری شخصیات سے خطاب کررہے تھے۔
#RSS chief doesn't understand the difference between #patriotism & religious extremism.
"If Muslims, Christians Worship India, Then They Are Hindus": RSS Chiefhttps://t.co/vCxgmzZ8fi
— FreeBird????️ (@Serendipit27455) November 19, 2025
’جو لوگ مادرِ وطن سے محبت رکھتے ہیں، اپنے اسلاف پر فخر کرتے ہیں اور ہماری تہذیبی وراثت کو آگے بڑھاتے ہیں، وہ سب ہندو ہیں، ہندو مت کو مذہبی مفہوم میں محدود نہ کیا جائے۔‘
ان کے مطابق، ہندو ازم اور ہندو ثقافت کھانے پینے یا عبادات تک محدود نہیں، یہ ایک ہمہ گیر اور جامع تصور ہے۔
مزید پڑھیں:مودی اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ انتہا پسندی کی جڑ، ریاستی وزیر کو قتل کی دھمکیاں
’یہ اپنے دائرے میں بہت سے لوگوں کو سمیٹ سکتا ہے۔ اگر مسلمان اور عیسائی اپنی عبادات اور روایات چھوڑے بغیر اس ملک سے محبت کریں، بھارتی ثقافت پر عمل کریں اور بھارتی آبا و اجداد پر فخر محسوس کریں، تو وہ بھی ہندو ہیں۔‘
موہن بھاگوت نے اس موقع پر ’پنج پَروَرتن‘ یعنی 5 سماجی تبدیلیوں پر بھی تفصیل سے گفتگو کی، جن میں سماجی ہم آہنگی، خاندانی بیداری، شہری نظم و ضبط، خود انحصاری اور ماحولیات کا تحفظ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارتی میڈیا کی من گھڑت خبریں بے نقاب، پاکستانی شہریوں کو دہشتگرد ثابت کرنے کی کوشش ناکام
خاندان کی مضبوطی پر خاص زور دیتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ ہر خاندان کو چاہیے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی کہانیوں کو محفوظ رکھے اور نئی نسل میں ذمہ داری اور ثقافتی شعور پیدا کرے۔
موہن بھاگوت نے لچت بورفوکن اور شری مانتا شنکر دیو جیسے تاریخی شخصیات کو قومی شخصیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ مخصوص صوبوں میں پیدا ہوئے، لیکن ان کی اہمیت پورے بھارت کے لیے ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی عدالت نے ’الجزیرہ‘ کی دستاویزی فلم نشر کرنے پر پابندی کیوں لگائی؟
آر ایس ایس سربراہ نے آزادئ ہند کی تحریک میں سنگھ کے رضاکاروں کے کردار کا بھی ذکر کیا اور ڈاکٹر ہیڈگوار کی عدم تعاون تحریک، سول نافرمانی تحریک، اور 1942 کی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے دوران قید و بند کی صعوبتوں کا حوالہ دیا۔
انہوں نے شمال مشرقی بھارت کو ’بھارت کی وحدت میں تنوع‘ کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ لچت بورفوکن اور شنکر دیو جیسی شخصیات قومی اہمیت رکھتی ہیں۔
خطاب کے اختتام پر موہن بھاگوت نے سماج کے تمام طبقات، خصوصاً موجود معزز شخصیات پر زور دیا کہ وہ قوم کی تعمیر کے لیے مشترکہ طور پر بے لوث ہو کر کام کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آر ایس ایس بھارتی ثقافت ڈاکٹر ہیڈگوار راشٹریہ سویم سیوک سنگھ عیسائی مسلمان موہن بھاگوت ہندو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آر ایس ایس بھارتی ثقافت موہن بھاگوت موہن بھاگوت نے آر ایس ایس
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔