data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خیرپور (جسارت نیوز ) وحشی درندوں نے معصوم بچے کے ساتھ جنسی درندگی کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی خیرپور کے ٹھری میرواہ تعلقہ میں دو ملزمان کی جانب سے معصوم بچے سے جنسی ذیادتی کا انکشافات ملزمان نے جنسی ذیادتی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی ہے متاثرین کا پریس کلب خیرپور کے سامنے احتجاجی مظاہرہ تفصیلات کے مطابق ٹھری میرواہ میں دو وحشی ملزمان نے معصوم بچے عبدالرحمان بھٹی کو اغوا کرنے کے بعد جنسی ذیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بچے کو قریبی کھیتوں میں پھینک کر فرار ہوگئے اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی اس سلسلے میں متاثرہ بچہ عبدالرحمان بھٹی نے اپنے والدین احسان الحق بھٹی ، مسمات صنم بھٹی کے ہمراہ پریس کلب خیرپور کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان شاہزیب لغاری اور بلاول مانڈن نے میرے بچے کے ساتھ جنسی ذیادتی کے بعد انکی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی ہے اور ٹھری میرواہ پولیس مقدمہ درج کرنے کے باوجود پولیس ملزمان سے بھاری رشوت لیکر انکے حمایت کررہی ہے وحشی ملزمان ہمیں قتل کرنے سمیت سنگین نوعیت کی دھکمیاں دے رہے ہیں انھوں نے آئی جی سندھ اور ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے عبرتناک سزا دی جائے اور ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویڈیو سوشل میڈیا پر جنسی ذیادتی معصوم بچے کے بعد

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی