data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

شہدادپور (نمائندہ جسارت) شہدادپور میں پولیس حراست میں ہلاکت کے خلاف شدید احتجاج، میت کے ہمراہ مظاہرین نیشنل ہائی وے بلاک کرنے ہالہ روانہ ۔تفصیلات کے مطابق شہدادپور میں دو روز قبل پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والے ہائی اسکول ہیڈ ماسٹر عزیز جکھرو کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں پی پی رہنماؤں فدا حسین ڈیرو، عبدالحمن تھیم سمیت شہر کی مختلف سیاسی، سماجی و مذہبی شخصیات کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے بعد، رات گئے ختم ہونے والا دھرنا ورثاء کی جانب سے نامزد کیے جانے والے ملوث پولیس اہلکاروں کی عدم گرفتاری پر ایک بار پھر شروع کر دیا گیا اور ہالہ چوک کو مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا۔ ورثاء کا کہنا تھا کہ پولیس جب تک نامزد ملوث اہلکاروں کو گرفتار نہیں کرے گی، وہ میت کی تدفین نہیں کریں گے۔بعد ازاں، ہلاک ہونے والے عزیز جکھرو کے ورثاء اور سول سوسائٹی کے سینکڑوں افراد نے شہدادپور کے ہلاک چوک سے دھرنا ختم کر دیا اور نامزد ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے میت سمیت نیشنل ہائی وے بلاک کرنے کے لیے ہالہ کی جانب روانہ ہو گئے۔ مظاہرین کی اس پیش قدمی کی وجہ سے نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کا شدید متاثر ہوگئی جبکہ ضلعی انتظامیہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے متحرک ہے۔اور پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں