کچے مکانات، ہماری ثقافت اور تاریخ کے محافظ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
لیوٹالسٹائی کہتے ہیں کہ ’’اگر آپ فن میں سچی محبت اور حقیقت دیکھنا اور محسوس کرنا چاہتے ہو، تو جائیں اور دیہاتوں کے کچے مکانات میں رہنے والوں کے فن و آرٹ کو دیکھیں۔ اس میں آپ کو نظر بھی آئے گااور محسوس بھی کرسکو گے‘‘۔
ٹالسٹائی کی بات کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ فطرت کی گود میں پیدا ہوتے ہیں، وہاں پرورش پاتے ہیں، نہ صرف ان کی معاشرتی زندگی سادہ اور خلوص پر مبنی ہوتی ہے۔ بلکہ ان کے فن و آرٹ، ادب، شاعری اور دیگر روحانی سرگرمیوں میں بھی یہی چیزیں کارفرما ہوتی ہیں۔
مٹی کے یہ کچے گھرہمارے دیہاتی حسن اور ثقافت کے امین ہیں۔ فطرت سے قریب تر ان کچے مکانوں نے آج تک ہماری تاریخ، روایات، ثقافت، رومان اور اقدار کو محفوظ کر رکھا ہے۔ لیکن آج کل پوری دنیا اربنائزیشن کی طرف روا ں دواں ہے۔ اس کے باعث یہ کچے مکان یا تو خالی ہورہے ہیں یا پھر ڈھائے جارہے ہیں۔
پکے مکان کے اپنے کچھ لوازمات اور مطالبات ہوتے ہیں۔ آج ہمارے گھروں پر چین، جاپان اور یورپ کی الیکٹرانک مشینیں، کمپیوٹر، فریج اور واشنگ مشین قابض ہوگئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان چیزوں نے ہماری اقدارو روایات کو بھی متاثر کیا ہے۔ فطرت سے دوری نے ہمیں ایک ایسے ویرانے میں لاکھڑا کیا ہے جہاں اب کوئی چیز اپنی اصل شکل اور رنگ میں نظر نہیں آتی۔ ہم ایک ایسے کنکریٹ کے جنگل میں رہتے ہیں جہاں سے اب فطرت کا نظارہ اور ان نظاروں سے لطف اندوز ہونا بھی نصیب نہیں ہوتا، حالانکہ فطرت تو اب بھی موجود ہے۔ ویسا سورج ہے ویسا چاند ہے اور ویسے ہی تارے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ موسم بدل گئے، حالانکہ موسم نہیں بلکہ ہمارے مزاج بدل گئے ہیں۔ تہذیب و ثقافت کے حوالے سے ہمارے اندازے اور پیمانے بدل گئے ہیں۔ آج بھی جو لوگ کچے مکان اور دیہات میں رہتے ہیں انہیں ان اونچے اونچے مکانات، شہر کے محلات اور بنگلوں میں رہنے والے لوگ پسماندہ اور غیر مہذب سمجھتے ہیں۔ انہیں اُجڈ اور جاہل جیسے ناموں سے لکھتے اور پکارتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ انہی کچے مکانات اور دیہات نے ہمیں خاندانی رشتوں کی مٹھاس دی ہے، ہمیں سچی محبت کرنے کا سلیقہ سکھایا، خلوص، صداقت اور اپنی مٹی اپنے وطن سے ناتا جوڑنے کا درس دیا ہے۔
اتحاد و اتفاق، تنظیم، مہمان نوازی، جرگہ سسٹم اور حجرہ کلچر غم اور خوشی دونوں کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم دردی، خدمت، تعاون کرنا ہمیں انہی کچے مکانات میں رہنے والوں نے سکھایا۔ ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہماری ثقافت کے اصل اور تاریخ کے محافظ یہی کچے مکانات ہیں۔ مٹی کے ان گھروں نے پیارو محبت کی عظیم داستانوں اور کرداروں کو جنم دیا ہے۔ فن و آرٹ کے نادر نمو نے تخلیق کیے ہیں۔ صنعت و ہنر کی بے شمارایجادات پیش کی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آج کا انسان پکا مکان بنانا اور اس میں رہنا بسنا چھوڑ کر مٹی کا مکان بنائے اور واپس دیہاتی زندگی اپنائے۔ لیکن اصل بات ہے انسانی رویوں کی، ہماری ثقافت اور اقدار کی، ہماری اپنی تہذیبی شناخت اور پہچان کی۔ ہم چاہے جہاں بھی اور جس جگہ بھی رہیں، اپنی تہذیب وثقافت کی ان اقدار و روایات کا دامن ضرور تھام کر رکھیں، جو اقدار و روایات آج بھی ہمای رہنمائی کرسکتی ہیں۔
یہ بات یہاں تک تو صحیح ہے کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ دنیا گھٹتی جارہی ہے، بڑے بڑے اور وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے مکانات کے بجائے اب لوگ اپارٹمنٹس میں رہنے پر مجبور ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی وہ سوچ ترک کردیں جو ہماری مٹی کے خمیر میں شامل ہے۔ جدید سے جدید گھر بناکر سکھ کی زندگی ضرور گزاریں اور اس میں رہنا بھی کوئی بری بات نہیں، مگر کہنا مقصود یہ ہے کہ مٹی کے بنے یہ گھروندے ہمارا ورثہ ہے۔ آج بھی دور دراز کے دیہاتوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو پکے مکانات تعمیر کرنے سے قاصر ہیں۔ ہمیں محض اس لیے کسی کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ کچے مکان میں رہتا ہے۔ دراصل یہی ہماری تہذیب کاحصہ ہے، یہی ہماری ثقافت ہے اور یہی ہماری روایات ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج کی اس گلوبل ویلیج اور گلوبل ہوم نے ہمیں قدرتی مناظر سے دور کردیا ہے۔ آج ہمیں نہ تو پرندوں کی چہچہاہٹ سے محظوظ ہونا نصب ہوتا ہے اور نہ ہی دریاؤں کی گونجتی آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔ ہم صرف اسکرین پر درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ سننے تک محدود رہ گئے ہیں۔ پتھریلی زمینوں پر چلنے کے بجائے پکے فٹ پاتھوں پر واک کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔
ذرا سوچیے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم خود مشین بنتے جارہے ہیں۔ جو بندہ مٹی میں نہیں کھیلا، بھلا اسے وطن کی مٹی کی خوشبو کیسے محسوس ہوگی اور جو خوشبو محسوس نہیں کرتا تو اس وطن کی مٹی سے کیسے پیار ہوسکتا ہے۔ ہم اپنے بلند وبالا مکانات کے خوب صورت ڈرائنگ رومز میں کچے مکانات کی دیدہ زیب پینٹنگز آویزاں کردیتے ہیں مگر ہم اس مٹی کی دل فریب خوشبو محسوس نہیں کرسکتے۔ کیا ہم واقعی تخیلاتی دنیا میں نہیں رہتے؟
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہماری ثقافت کچے مکانات کچے مکان گئے ہیں ہیں کہ مٹی کے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی