اسلام آباد میں سروے اور ای ٹیگز: ہماری معلومات ڈارک ویب پر بکے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ سینیٹر پلوشہ خان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے اسلام آباد میں گاڑیوں پر ای ٹیگز لگانے کو لازمی قرار دینے اور شہریوں کے سروے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیسے یہ افسر شہریوں کو کہہ سکتا ہے کہ آپ نے سروے نہیں کروایا تو آپ کے گھروں میں گھسیں گے، کس قانون کے تحت آپ لوگوں کو ہراساں کرکے جبراً ان سے معلومات لیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد میں گاڑیوں کے لیے ای ٹیگز لازمی قرار
انہوں نے کہا کہ کون ضمانت دے سکتا ہے کہ ہماری ذاتی معلومات ڈارک ویب پر سو سو روپے پر نہیں بکے گا، کوئی اجرتی قاتل ہمارے گھر آنا چاہے تو ان کو کون روکے گا؟ ای ٹیگ جگہ جگہ ہماری مانیٹرنگ کرے گا۔ ہماری لوکیشن کہاں جائے گی ہمیں کیا پتا۔
پلوشہ خان نے سوال اٹھایا کہ سب کو معلوم تھا کہ خودکش حملہ آور تیار ہوگئے ہیں، کسی نے ان کو نہیں روکا نہ ہی کسی نے ذمہ داری لی، لیکن آپ شہریوں کو دھمکاتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گھسیں گے۔ کیا اس معلومات کی بنا پر کسی گھر میں چور ڈاکو گھسا تو کیا ڈی سی اور وزرات داخلہ ذمہ دار ہوں گے؟
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
انہوں نے معاملے پر رولنگ دے کر اسے کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل 5، 5 سو روپے ڈارک ویب پر بکے ہیں جن میں چیئرمین پی ٹی اے کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پلوشہ خان کے خطاب کا کلپ شیئر کرتے ہوئے ان کے موقف سے اتفاق کیا اور لکھا کہ چادر چار دیواری کا ویسے تو اس حکومت میں کوئی تصور باقی ہی نہیں رہا لیکن وزارت داخلہ کی گھروں میں گھسنے کی احمقانہ پالیسی رہا سہا پردہ بھی ختم کر دے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔