نیبرہوڈ سروے کیا ہے اور یہ کسی علاقے کی سیکیورٹی کے لیے کیوں ضروری ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ ’سیکیور نیبر ہوڈ‘ کے نام سے سروے شروع کیا جارہا ہے، جس کے بعد انتظامیہ کو معلوم ہوگا کہ وفاقی دارالحکومت میں کس جگہ پر کون رہ رہا ہے۔
نیبرہوڈ سروے کیا ہے؟
نیبرہوڈ سروے سے مراد کسی مخصوص علاقے یا محلے کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔
اس کا مقصد وہاں کے رہائشیوں، سہولیات، ماحول، مسائل اور ضروریات کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ علاقے کی منصوبہ بندی اور حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔
حفاظتی اداروں کے لیے بنیادی مددگار ذریعہ
یہ سروے سیکیورٹی کے نقطۂ نظر سے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
اس کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں کون لوگ رہتے ہیں، کون سی عمارتیں حساس نوعیت کی ہیں، اور کون سے راستے داخلی یا خارجی ہیں۔
یہ معلومات کسی ہنگامی صورتحال یا کارروائی کے دوران فوری ردعمل میں مدد دیتی ہیں۔
مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی میں معاون
سروے کے دوران اگر کسی گھر، دکان یا شخص کی سرگرمیاں غیر معمولی محسوس ہوں، جیسے بغیر شناخت کے رہائش، مشکوک آمد و رفت، یا ذخیرہ شدہ سامان، تو اس کی اطلاع فوراً دی جا سکتی ہے۔
یہ طریقہ کار دہشت گردی، جرائم اور منشیات فروشی جیسے خطرات کی بروقت نشاندہی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
پولیس اور عوام کے تعلقات میں بہتری
نیبرہوڈ سروے سے پولیس اور عوام کے درمیان رابطہ بہتر ہوتا ہے۔
علاقے کے لوگ زیادہ تعاون کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ یہ معلومات ان کے تحفظ اور سلامتی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، نہ کہ کسی دباؤ کے لیے۔
خطرات کا تجزیہ اور بہتری کے اقدامات
سروے کی مدد سے یہ جانچنا ممکن ہوتا ہے کہ علاقے میں کون سے حفاظتی خطرات زیادہ ہیں — جیسے اندھیری گلیاں، غیر محفوظ عمارتیں، یا پولیس گشت کی کمی۔
اس سے متعلقہ ادارے بہتر منصوبہ بندی کر کے روشنی، نگرانی، اور سیکیورٹی کیمرے لگانے جیسے اقدامات کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
مختصراً، نیبرہوڈ سروے کسی بھی علاقے کو محفوظ، منظم اور قابلِ نگرانی بنانے کے لیے ایک بنیادی اور مؤثر ذریعہ ہے۔
یہ نہ صرف سیکیورٹی نظام کو مضبوط بناتا ہے بلکہ عوامی اعتماد اور کمیونٹی تحفظ کے احساس کو بھی فروغ دیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔