بیلجیم کے لیژ ایئرپورٹ پر ڈرون کی موجودگی سے پروازیں معطل، تھوڑی دیر بعد بحال
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لیژ: بیلجیم کے شہر لیژ میں واقع بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صبح پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کردی گئی، جب فضائی حدود میں ایک ڈرون کی موجودگی کی اطلاع ملی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق فضائی ٹریفک کنٹرول کمپنی اسکائیز (Skeyes) نے بتایا کہ ڈرون صبح 6 بج کر 56 منٹ پر ایئرپورٹ کے فیڈ ایکس (FedEx) تنصیبات کے قریب دیکھا گیا، جس کے بعد حفاظتی طور پر تمام آپریشن کچھ وقت کے لیے روک دیے گئے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کے بیان کے مطابق واقعے کا مجموعی اثر انتہائی محدود رہا اور فضائی آپریشن چند گھنٹوں بعد بحال کر دیے گئے۔
یہ واقعہ ایک ہفتے کے دوران تیسری بار پیش آیا ہے، اس سے قبل منگل اور جمعرات کی شام کو بھی لیژ ایئرپورٹ پر ڈرون کی موجودگی کے باعث پروازیں عارضی طور پر معطل کی گئی تھیں، جب کہ برسلز ایئرپورٹ پر بھی اسی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
گزشتہ چند ماہ میں یورپ کے مختلف ممالک میں ڈرون کی دراندازیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں بعض واقعات فوجی تنصیبات کے قریب بھی رونما ہوئے ہیں۔
بعض یورپی حکام نے ان واقعات کا الزام روس پر عائد کیا ہے اور انہیں یوکرین جنگ کے تناظر میں ہائبرڈ جنگی حکمتِ عملی سے جوڑا ہے، تاہم ماسکو نے کسی بھی مداخلت کی تردید کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈرون کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔