اترپردیش: شوہروں کا بیگمات کے ہاتھوں قتل، بیجا دوستیوں نے کئی گھر اجاڑ دیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
بھارتی ریاست اتر پردیش میں غیر مناسب تعلقات کے باعث شوہروں کے قتل کے متعدد ہولناک واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیمہ کی رقم حاصل کرنے کے لیے ماں نے ’دوست‘ کے ہاتھوں جوان بیٹا قتل کروا دیا
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک کیس میں اجے نامی ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس کی ساتھی انجلی نے اپنے شوہر راہول کو اس وقت قتل کرنے کی سازش رچی جب راہول کو دونوں کے غیر مناسب تعلقات کا علم ہو گیا۔
منصوبے کے مطابق اجے نے راہول کو کھیتوں کے قریب بلایا اور وہاں پہنچنے پر اسے 3 گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
اسی ضلعے سے ایک مشابہ واقعہ بھی سامنے آیا جہاں ایک خاتون کاجل نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق کاجل نے پہلے شوہر کو نشہ آور گولیاں دیں پھر عاشق کے ساتھ مل کر اسے موٹر سائیکل پر نہر کے قریب لے گئی جہاں دونوں نے اسے دوپٹے سے گلا گھونٹ کر قتل کیا اور لاش نہر میں پھینک دی۔
یہ واقعات اتر پردیش میں شوہروں کے قتل کی بڑھتی ہوئی لرزہ خیز وارداتوں کی کڑی ہیں۔
مزید پڑھیے: مودی کے دور میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خوفناک اضافہ، مذہبی ہم آہنگی خطرے میں
اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ میرٹھ میں رواں سال ہی پیش آیا تھا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
پولیس کے مطابق 3 مارچ کو مسکان نامی خاتون نے اپنے عاشق ساحل شکلا کے ساتھ مل کر شوہر سوربھ راجپوت کو قتل کر دیا۔ دونوں نے لاش کو 4 ٹکڑوں میں کاٹ کر ڈرم میں بند کیا، اسے سیمنٹ سے بھر دیا اور ہماچل پردیش فرار ہو گئے۔
بعد ازاں مسکان نے خود اپنے اہل خانہ کے سامنے جرم کا اعتراف کیا جنہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
مزید پڑھیں: بیوی سے جھگڑے پر سسرالیوں نے داماد کی جان لی
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام مقدمات میں غیر اخلاقی تعلقات اور گھریلو تنازعات مرکزی محرک کے طور پر سامنے آئے ہیں اور ملزمان کے خلاف قتل اور سازش کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اتر پردیش بیوی اور آشنا شوہر بیوی کے ہاتھوں قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتر پردیش بیوی اور ا شنا شوہر بیوی کے ہاتھوں قتل کے مطابق قتل کر
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔