استنبول مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیڈلاک برقرار
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں جاری مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے، تپاکستان نے مذاکرات میں ثالثی پر ترکی اور قطر کا شکریہ ادا کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے، افغان طالبان دوحہ امن معاہدہ 2021 کے تحت اپنے بین الاقوامی، علاقائی اور دوطرفہ وعدوں کی تکمیل میں ناکام رہا ہے، پاکستان افغان عوام کے لیے خیر سگالی اور پر امن مستقبل کا خواہش مند ہے۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان طالبان حکومت کے ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہوں اور پاکستان اپنے عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
خیال رہے کہ ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے دوران مذاکرات کا تیسرا دور گزشتہ روز شروع ہوا تھا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے عہدیدار شریک ہیں، ترکی اور قطر کی ثالثی میں گزشتہ ماہ بھی دوحہ کے بعد مذاکرات ہوئے تھے اور اس دوران جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن