آل پاکستان سنی کانفرنس کی تیاریوں کیلئے ملک گیر رابطہ مہم کا سلسلہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
انجینیئر محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ کراچی میں جمعیت علما پاکستان (نورانی) کے سربراہ علامہ ابو الخیر محمد زبیر کی میزبانی میں اہم اجلاس منعقد کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ آل پاکستان سنی کانفرنس کی تیاریوں کیلئے پورے پاکستان میں اجلاس اور رابطہ مہم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اہلسنت مذہبی و سیاسی جماعتوں کا کراچی میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان سنی تحریک کے چیئرمین انجینیئر محمد ثروت اعجاز قادری، مرکزی کوآرڈینیٹر تنظیماتِ اہلسنت پاکستان پیرزادہ محمد امین آف مانکی شریف، مرکزی کوآرڈینیٹر پاکستان سنی تحریک محمد طیب قادری مذہبی و روحانی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں اہلسنت کے ملک گیر اتحاد کیلئے کوششیں تیز کرنے قائدین کا تحفظِ مدارس و مساجد پر زور دیا گیا۔ منعقدہ اجلاس میں انجینیئر محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ اہلسنت کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے درمیان ملک گیر اتحاد اہلسنت کیلئے رابطے اور مشاورتی کوششیں تیز تر ہو گئیں ہیں۔ اس سلسلے میں کراچی میں جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کے سربراہ علامہ ابو الخیر محمد زبیر کی میزبانی میں اہم اجلاس منعقد کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں مساجد، مدارس اور خانقاہوں کے تقدس اور تحفظ کو یقینی بنانا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے، اہلِسنت کے خلاف امتیازی رویے اور ان کے مذہبی و سماجی کردار کو محدود کرنے کی کوششیں ملک کے امن کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اور خانقاہیں دینِ اسلام کی خدمت اور قومی یکجہتی کے مراکز ہیں، ان پر کسی بھی قسم کی قدغن ناقابلِ برداشت ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کہ مذہبی رواداری، بھائی چارہ اور اتحادِ امت کے فروغ کیلئے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے، اہلِسنت کے حقوق کا احترام اور ان کے اداروں کا تحفظ ہی قومی سلامتی اور استحکام کی ضمانت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان سنی نے کہا کہ
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔