آئین میں مجوزہ 27ویں ترمیم پر مشاورت کیلئے وفاقی کابینہ جمعہ کو طلب کیا گیا اجلاس ملتوی کردیا گیا، اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعہ کی صبح پونے 10 بجے طلب کیا تھا جس میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کی جانی تھی تاہم اب اس اجلاس کو ملتوی کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، وفاقی کابینہ کا اجلاس ری شیڈول کرنے سے متعلق کابینہ ارکان کو آگاہ کردیا گیا، ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے 27ویں ترمیم پر تحفظات کے سبب کابینہ اجلاس ملتوی کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ حکومت کی اتحادی پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے گزشتہ روز مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر طویل غور و خوض کے بعد مسلح افواج سے متعلق آرٹیکل 243 کے علاوہ 27ویں آئینی ترمیم کی تمام شقوں کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ حکومت کی مجوزہ آئینی ترامیم پر بات چیت جاری رہے گی تاہم پیپلز پارٹی صوبوں کے مالیاتی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔اس سے قبل گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے وفود نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کی تھیں۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے 7 رکنی وفد کی قیادت پارٹی کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کر رہے تھے، ملاقات میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس سے ایک روز قبل ایم کیو ایم-پی نے مطالبہ کیا تھا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی حکومتوں (لوکل گورنمنٹس)کو خودمختاری دی جائے، پیپلز پارٹی نے مجوزہ ترمیم کی اہم خصوصیات سامنے رکھی تھیں، جن کیلئے (ن)لیگ کی حکومت نے ان کی حمایت مانگی تھی۔قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور 27ویں آئینی ترمیم کی شقوں اور موقف پر تفصیلی مشاورت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم وفاقی کابینہ پیپلز پارٹی مشاورت کی کیا گیا

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

  نوٹس متن  کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.

متعلقہ مضامین

  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن