26ویں ترمیم کی طرح 27ویں ترمیم کا بھی پتہ نہیں لگ رہا کہ اس میں کیا ہے: حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ 26 ویں ترمیم کی طرح 27 ویں ترمیم کا بھی پتہ نہیں لگ رہا کہ اس میں کیا ہے۔
مردان میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کا مولانا فضل الرحمٰن کے پاس ایک اور حکومت کے پاس دوسرا مسودہ تھا۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی عدالت کی شریعت کورٹ کی بلڈنگ میں منتقلی کی تجویز ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام میں پیوند کاری کے بجائے اسے تبدیل کیا جائے، حکومت میں بیٹھے افراد کی غالب اکثریت فارم 47 والوں کی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اب پارٹیوں کے بجائے عوام کے ساتھ اتحاد کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔