26ویں ترمیم کی طرح 27ویں ترمیم کا بھی پتہ نہیں لگ رہا کہ اس میں کیا ہے: حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ 26 ویں ترمیم کی طرح 27 ویں ترمیم کا بھی پتہ نہیں لگ رہا کہ اس میں کیا ہے۔
مردان میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کا مولانا فضل الرحمٰن کے پاس ایک اور حکومت کے پاس دوسرا مسودہ تھا۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی عدالت کی شریعت کورٹ کی بلڈنگ میں منتقلی کی تجویز ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام میں پیوند کاری کے بجائے اسے تبدیل کیا جائے، حکومت میں بیٹھے افراد کی غالب اکثریت فارم 47 والوں کی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اب پارٹیوں کے بجائے عوام کے ساتھ اتحاد کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔