بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور جماعتِ اسلامی ایک منصفانہ، کرپشن سے پاک اور انصاف پر مبنی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔

وہ سلہٹ میں امان اللہ کنونشن ہال میں جماعتِ اسلامی سلہٹ میٹروپولیٹن کے زیرِ اہتمام ایک عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ہم سب مل کر نیا بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں، بعض سیاسی جماعتیں کہتی ہیں وہ سب کے ساتھ چلیں گی مگر جماعتِ اسلامی کے ساتھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلامی اندولن بنگلہ دیش کا عام انتخابات مؤخر کرنے کا مطالبہ، پہلے ریفرنڈم پر اصرار

’۔۔۔لیکن ہم کہتے ہیں اگر اللہ نے ہمیں موقع دیا تو ہم سب کو ساتھ لے کر ملک کی تعمیر کریں گے، ان کو بھی جو ہم سے اختلاف رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جماعتِ اسلامی اقتدار میں آ کر کرپشن، بھتہ خوری اور دہشت گردی سے پاک معاشرہ قائم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ ہمارے خلاف ناانصافی ہوئی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ ’دعا کریں کہ بنگلہ دیش ایک بار پھر آمریت کے شکنجے میں نہ جکڑ جائے۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش ایئر فورس کا چین کے اشتراک سے ڈرون پلانٹ قائم کرنے کا اعلان

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد ملک کا سرمایہ لوٹ کر بیرونِ ملک جمع کررہے ہیں جبکہ عوام غربت و ظلم کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم معاشرتی انصاف کے قیام تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

’جب انصاف قائم ہوگا تو لوٹ مار، قتل اور بدعنوانی ختم ہو جائے گی، ہمارا مقصد تعلیم، دیانت اور بہبود کے فروغ کے لیے کام کرنا ہے۔‘

مزید پڑھیں: پولیس اصلاحات: آئرلینڈ کی بنگلہ دیش کو معاونت فراہم کرنے کی پیشکش

انہوں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر جماعتِ اسلامی کے نمائندے اقتدار میں آ کر حکومتی مراعات حاصل کریں یا کرپشن میں ملوث ہوں تو عوام آئندہ ان کو ووٹ نہ دیں۔

’ہم عوام کے خادم بننا چاہتے ہیں، حکمران نہیں، اگر ہم غلطی کریں تو ہمیں جواب دہ ٹھہرائیں۔‘

انہوں نے ماضی میں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں پر ریاستی جبر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر پابندیاں لگیں، گھروں کو مسمار کیا گیا، مگر آج بھی ہم موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا اتفاقِ رائے کمیشن کی سفارشات پر غم و غصہ

’جنہوں نے ہمیں مٹانے کی کوشش کی، وہ خود مٹ گئے، یہ اللہ کا انصاف ہے۔‘

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت کے کارکنوں نے عوامی تحریک کے دوران امن قائم رکھنے میں کردار ادا کیا، حتیٰ کہ خالی پولیس اسٹیشنوں، عبادت گاہوں اور عوامی املاک کی حفاظت بھی انہوں نے کی۔

انہوں نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ناانصافی اور عدم مساوات عام ہو چکی ہے، یہاں تک کہ اب امامِ مسجد بھی مشکوک سمجھے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: یورپی یونین کا بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے بڑی مبصر ٹیم بھیجنے کا اعلان

ان کے مطابق، ملک کی 62 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جن میں 22 فیصد طلبا شامل ہیں۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ دیانتدار اور شفاف صحافت ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ ’سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا ہی اصل صحافت ہے۔‘

انہوں نے بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشی شہریوں کے حقوق پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی اقتدار میں آ کر تمام بنگلہ شہریوں کی قومی ترقی میں شمولیت یقینی بنائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش بھتہ خوری جماعت اسلامی دہشت گردی ڈاکٹر شفیق الرحمان سلہٹ عوامی تحریک کرپشن ووٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھتہ خوری جماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمان سلہٹ عوامی تحریک ووٹ ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کرتے ہوئے کہا کہ مزید پڑھیں بنگلہ دیش اسلامی کے انہوں نے نے کہا کے لیے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف