data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251107-01-13
لاہور(نمائندہ جسارت)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اجتماع عام کے موقع پر جماعت اسلامی نظام کی مکمل تبدیلی کے لیے منظم ملک گیر جدوجہد کا آغاز کرے گی۔ ہماری مزاحمتی تحریک آئینی فریم ورک کے اندر ہوگی۔ ’’بدل دو نظام‘‘ کے نعرہ کے تحت مینار پاکستان پر ہونے والا اجتماع عام دنیا کی حالیہ سیاسی تحریکوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ گریٹر اقبال پارک کے 329 ایکڑ میں انسانوں کا سمندر نظر آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں اجتماع عام کے مرکزی کیمپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔افتتاحی تقریب کے اہم شرکا میں نائب امرا لیاقت بلوچ، پروفیسر محمد ابراہیم، میاں محمد اسلم، ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈاکٹر عطاالرحمن، ڈپٹی سیکرٹریز اظہر اقبال حسن، مولانا عبدالحق ہاشمی، شیخ عثمان فاروق، ممتاز سہتو، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، امیر ہزارہ عبدالرزاق عباسی، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ایڈووکیٹ شامل تھے۔ ڈپٹی سیکرٹری وقاص انجم جعفری نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے۔امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور ناظم اجتماع کی متعلقہ امور کو احسن طریقے سے انجام دینے پر تحسین کی۔ انہوں نے ترکی میں 129 ایکڑ پر ہونے والے دنیا کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی اجتماع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جماعت اسلامی کا 21، 22 اور23 نومبر کو ہونے والا اجتماع ترکی کا ریکارڈ توڑ دے گا۔ انھوں نے کہا کہ اجتماع عام میں عالم اسلام کے پویلین قائم کریں گے۔ تاجر، صنعتکار، نوجوان اور طلبہ تحریکوں کے کارکنان اور رہنما جمع ہوں گے۔ اس موقع پر قومی معاشی پالیسی کی قرارداد پاس ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سود کی لعنت کے ہوتے ہوئے معیشت بہتر نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع عام میں خواتین کی بہت بڑی تعداد جمع ہوگی جن کے لیے علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی اجتماع عام کے موقع پر قوم کے سامنے تعلیم کے شعبے میں بہتری، عدالتی اصلاحات کا مکمل ایجنڈا پیش کرے گی۔ استحصالی نظام نے مزدوروں، چھوٹے کسانوں کو کچل کر رکھ دیا ہے، زراعت میں کارپوریٹ سیکٹر کا نیا رجحان جاگیرداری نظام کا تسلسل ہے،ملک میں افسر شاہی اپنے آپ کو حاکم تصور کرتی ہے، سیاست وراثت، خاندان اور ذات کے گرد گھوم رہی ہے۔ ان حالات میں ایک منظم سیاسی جماعت ہی فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ سکتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف کامیاب تحریک چلائی، جس کے نتیجے میں قوم کو سستی بجلی ملی اور خزانے کو اربوں کا فائدہ ہوا۔ اجتماع عام سے نظام کی تبدیلی کی منظم ملک گیر تحریک کا آغاز ہوگا۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے 26ویں ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کیا اور اس موقع پر اپوزیشن کو حکومت سے بات چیت میں نہ الجھنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ہم مجوزہ 27ویں ترمیم کو بھی مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔نائب امیر اور ناظم اجتماع عام لیاقت بلوچ نے انتظامات سے متعلق بریفنگ دی اور بتایا کہ انتظامی امور کے لیے 4 سو کے قریب ارکان پر مشتمل 37کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ اجتماع عام میں شرکت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز ہوچکا ہے، تمام پروگرامات سوشل میڈیا پر براہ راست نشر ہوں گے، معلومات سے مکمل آگاہی کے لیے خصوصی ویب سائٹ اور ایپ تیار کی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے 50ویں سالانہ اجتماع کے لیے 10 ترانے بھی تیار ہوئے ہیں۔

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن مینار پاکستان گراؤنڈ میں اجتماع عام کے مرکزی کیمپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن کہ جماعت اسلامی اجتماع عام کے نے کہا کہ انہوں نے کا ا غاز کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی