پنجاب بدستور بد ترین اسموگ کی لپیٹ میں، فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
پنجاب بدستور بد ترین اسموگ کی لپیٹ میں جس کے باعث پنجاب کے وسطی علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق قصور میں سب سے زیادہ 686 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ رائے ونڈ میں 601، گوجرانوالہ میں 442، فیصل آباد میں 337 اور شیخوپورہ میں 358 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ محکمہ ماحولیات پنجاب کا کہنا ہے کہ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 450 ہے۔ پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور تیسرے نمبر پر ہے۔ محکمہ ماحولیات نے کہا کہ برکی روڈ، شاہدرہ، ملتان روڈ، جی ٹی روڈ، ایجرٹن روڈ پر اے کیو آئی 500 ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ بھارت سے آنے والی آلودہ مشرقی ہوائیں لاہور کے فضائی معیار پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ لاہور کا اوسط اے کیو آئی 320 تا 360 تک رہنے کا امکان ہے۔ فضا میں آلودگی کی شرح بلند مگر قابو میں ہے۔ دوپہر 1 بجے سے 5 بجے تک فضائی معیار میں بہتری کا امکان ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو ماسک کے استعمال اور بغیر ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔