مضبوط و پائیدار پاک امریکہ تعلقات بہتر معاشی روابط اور موثر سرمایہ کاری سے وابستہ ہیں: رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ مضبوط و پائیدار پاک امریکہ تعلقات بہتر معاشی روابط اور موثر سرمایہ کاری سے وابستہ ہیں، امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے تاہم موجودہ کاروباری حجم میں کئی گنا اضافے کی صلاحیت موجود ہے ،کم لاگت اور بہتر کوالٹی پاکستانی مصنوعات کو خطے کے دیگر ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں مسابقتی برتری فراہم کرتی ہے ،روایتی مصنوعات کے ساتھ ساتھ غیر روایتی برآمدات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ،بہتر کاروباری روابط اورمارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کاروباری حجم میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے ، بڑی منڈی کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ وسائل کو مکمل طور پر برے کار لانے اور اجتماعی سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سفیر نے راولپنڈی چیمبر آف سمال ٹریڈرز و سمال انڈسٹریز کے وفد سے بات چیت کی ، وفد کی قیادت صدر چیمبر آف سمال ٹریڈرز و سمال انڈسٹریز سردار ثاقب نسیم اور برین ڈیزائنر محمد رئوف راجہ کر رہے تھے ،وفد میں مختلف صنعتوں سے تعلق رکھنے والے معروف کاروباری شخصیات شامل تھیں،پاکستانی سفارت خانے میں تعینات ٹریڈ منسٹر محمد حنیف چنہ بھی ملاقات میں موجود تھے۔راولپنڈی چیمبر آف سمال ٹریڈرز و سمال انڈسٹریز کی جانب سے امریکی ریاست ورجینیا میں ایک روزہ بزنس کانفرنس و ایکسپو کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں پاکستانی مصنوعات کو متعارف کرایا جائے گا۔وفدنے سفیر پاکستان کو ایکسپو میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی دعو ت دی، سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ ریاست ورجینیا میں راولپنڈی چیمبر آف سمال ٹریڈرز و سمال انڈسٹریز کی جانب سے منعقدہ ایکسپو کا دورہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیمبر آف سمال ٹریڈرز و سمال انڈسٹریز
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔