مالدیپ میں تمباکو کے استعمال پر پابندی، خریدو فرخت ممنوع
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مالے:۔ مالدیپ نے تمباکو پر پابندی نافذ کر دی ہے، جس کے تحت یہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جو آئندہ نسلوں کے لیے تمباکو مصنوعات کی فروخت اور استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
وزارت صحت نے کہا ہے کہ نئے قانون کے تحت، یکم جنوری 2007ءیا اس کے بعد پیدا ہونے والے کسی بھی فرد کو تمباکو مصنوعات خریدنے، استعمال کرنے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ قانون مئی میں صدر محمد معیزو کے ذریعے منظور کیا گیا تھا اور اس کا مقصد ایک “تمباکو سے پاک نسل” کی تشکیل ہے، جو عوامی صحت کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزارت کے مطابق “نسل در نسل پابندی ایک جرا ¿ت مندانہ قدم ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ نوجوان مالدیپ کے باشندے تمباکو کے مہلک اثرات سے آزاد ہو کر پروان چڑھیں”۔
مزید کہا گیا کہ یہ اقدام عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن برائے تمباکو کنٹرول کے تحت مالدیپ کی ذمہ داریوں کے مطابق ہے۔ اب دکان داروں کو خریداروں کی عمر کی تصدیق کرنا لازمی ہوگا، اور یہ پابندی تمام تمباکو مصنوعات پر لاگو ہوتی ہے۔
مالدیپ دنیا میں ویپنگ اور ای سگریٹس پر سب سے سخت پابندیوں میں سے ایک کو بھی برقرار رکھتا ہے، جس کے تحت ان کی درآمد، فروخت، تقسیم اور استعمال ہر عمر کے انسانوں کے لیے ممنوع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے تحت
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔