عمر عبداللہ کو اپنی ہی پارٹی کے اندر بغاوت کا سامنا ہے، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق بھارتی انگریزی روزنامے ”دکن ہیرالڈ“ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ دو سینئر رہنمائوں، آغا روح اللہ مہدی اور میاں الطاف احمد کی طرف سے اختلاف رائے کے غیر معمولی اظہار نے نیشنل کانفرنس کے اندر وسیع ہوتی ہوئی دراڑیں بے نقاب کر دی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو اپنی ہی پارٹی کے اندر بغاوت کا سامنا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے دو ارکان بھارتی پارلیمنٹ عمر عبداللہ کی قیادت اور ان کی حکومت کے کام کاج پر کھل کر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی انگریزی روزنامے ”دکن ہیرالڈ“ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ دو سینئر رہنمائوں، آغا روح اللہ مہدی اور میاں الطاف احمد کی طرف سے اختلاف رائے کے غیر معمولی اظہار نے نیشنل کانفرنس کے اندر وسیع ہوتی ہوئی دراڑیں بے نقاب کر دی ہیں، جس نے عمر عبداللہ کو ان کے اب تک کے مشکل ترین سیاسی لمحات سے دوچار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آغا روح اللہ نے، جو ایک انتہائی جوشیلے رہنما ہیں اور اپنے واضح خیالات کے لیے مشہور ہیں، پارٹی قیادت پر حالیہ راجیہ سبھا انتخابات میں کراس ووٹنگ کے بارے میں اہم معلومات کو چھپانے کا الزام لگایا ہے اور اسے "عوامی اعتماد کے ساتھ دھوکہ” قرار دیا ہے۔
روح اللہ نے کہا کہ عمر عبداللہ کے بیان سے یہ واضح ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ کراس ووٹنگ کس نے کی ہے لیکن وہ نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ روح اللہ نے کہا کہ یہ کسی کی نجی دکان نہیں ہے جہاں اس طرح کے معاملات کو چھپایا جائے۔ یہ پبلک پراپرٹی ہے، لوگوں کا اعتماد دائو پر لگا ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ روح اللہ نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ آئندہ بڈگام اسمبلی ضمنی انتخابات میں پارٹی کے لیے مہم نہیں چلائیں گے کیونکہ عمر عبداللہ کی زیر قیادت حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایک بااثر گجر رہنما میاں الطاف نے عمر عبداللہ کی سیاسی پریشانیوں میں اضافہ کرتے ہوئے حکومت پر بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو دور کرنے میں ناکامی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔
میاں الطاف کا کہنا ہے کہ ڈگریوں کے حامل لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ انتخابات کے دوران وعدوں کے باوجود کوئی قابل ذکر بھرتی کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بجلی کے سمارٹ میٹروں کی تنصیب پر عمر عبداللہ کے حالیہ ریمارکس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمر کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر عبداللہ پر پارٹی کے ان دو رہنماﺅں کے یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ان کی حکومت پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ملازمتوں کی کمی اور سست طرز حکمرانی کی وجہ سے شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔
مزید برآں مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کرنے میں بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی ہچکچاہٹ نے بھی عمر عبداللہ کو سخت پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے روح اللہ اور الطاف کے بیانات کو سنگین انتباہ سے تعبیر کیا ہے۔ سری نگر کے ایک سیاسی تجزیہ کار احمد ایاز نے دکن ہیرالڈ کو بتایایہ محض معمول کے اختلاف نہیں بلکہ عمرعبداللہ اور پارٹی کے اہم حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر یہ بغاوت مزید گہری ہوتی ہے، تو یہ این سی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور حکومت کے اندر عمر کی اتھارٹی کو ختم کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ کو روح اللہ نے میاں الطاف رپورٹ میں پارٹی کے کے اندر کہ عمر
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔