ذرائع کے مطابق بھارتی انگریزی روزنامے ”دکن ہیرالڈ“ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ دو سینئر رہنمائوں، آغا روح اللہ مہدی اور میاں الطاف احمد کی طرف سے اختلاف رائے کے غیر معمولی اظہار نے نیشنل کانفرنس کے اندر وسیع ہوتی ہوئی دراڑیں بے نقاب کر دی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو اپنی ہی پارٹی کے اندر بغاوت کا سامنا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے دو ارکان بھارتی پارلیمنٹ عمر عبداللہ کی قیادت اور ان کی حکومت کے کام کاج پر کھل کر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی انگریزی روزنامے ”دکن ہیرالڈ“ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ دو سینئر رہنمائوں، آغا روح اللہ مہدی اور میاں الطاف احمد کی طرف سے اختلاف رائے کے غیر معمولی اظہار نے نیشنل کانفرنس کے اندر وسیع ہوتی ہوئی دراڑیں بے نقاب کر دی ہیں، جس نے عمر عبداللہ کو ان کے اب تک کے مشکل ترین سیاسی لمحات سے دوچار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آغا روح اللہ نے، جو ایک انتہائی جوشیلے رہنما ہیں اور اپنے واضح خیالات کے لیے مشہور ہیں، پارٹی قیادت پر حالیہ راجیہ سبھا انتخابات میں کراس ووٹنگ کے بارے میں اہم معلومات کو چھپانے کا الزام لگایا ہے اور اسے "عوامی اعتماد کے ساتھ دھوکہ” قرار دیا ہے۔

روح اللہ نے کہا کہ عمر عبداللہ کے بیان سے یہ واضح ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ کراس ووٹنگ کس نے کی ہے لیکن وہ نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ روح اللہ نے کہا کہ یہ کسی کی نجی دکان نہیں ہے جہاں اس طرح کے معاملات کو چھپایا جائے۔ یہ پبلک پراپرٹی ہے، لوگوں کا اعتماد دائو پر لگا ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ روح اللہ نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ آئندہ بڈگام اسمبلی ضمنی انتخابات میں پارٹی کے لیے مہم نہیں چلائیں گے کیونکہ عمر عبداللہ کی زیر قیادت حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایک بااثر گجر رہنما میاں الطاف نے عمر عبداللہ کی سیاسی پریشانیوں میں اضافہ کرتے ہوئے حکومت پر بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو دور کرنے میں ناکامی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔

میاں الطاف کا کہنا ہے کہ ڈگریوں کے حامل لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ انتخابات کے دوران وعدوں کے باوجود کوئی قابل ذکر بھرتی کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بجلی کے سمارٹ میٹروں کی تنصیب پر عمر عبداللہ کے حالیہ ریمارکس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمر کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر عبداللہ پر پارٹی کے ان دو رہنماﺅں کے یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ان کی حکومت پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ملازمتوں کی کمی اور سست طرز حکمرانی کی وجہ سے شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔

مزید برآں مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کرنے میں بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی ہچکچاہٹ نے بھی عمر عبداللہ کو سخت پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے روح اللہ اور الطاف کے بیانات کو سنگین انتباہ سے تعبیر کیا ہے۔ سری نگر کے ایک سیاسی تجزیہ کار احمد ایاز نے دکن ہیرالڈ کو بتایایہ محض معمول کے اختلاف نہیں بلکہ عمرعبداللہ اور پارٹی کے اہم حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر یہ بغاوت مزید گہری ہوتی ہے، تو یہ این سی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور حکومت کے اندر عمر کی اتھارٹی کو ختم کر سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عمر عبداللہ کو روح اللہ نے میاں الطاف رپورٹ میں پارٹی کے کے اندر کہ عمر

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے