اداکارہ سارہ علی خان کے دیے گئے بسکٹ فقیر نے شکریہ کے ساتھ واپس کردیے، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
معروف بالی ووڈ اداکار سیف علی خان المعروف چھوٹے نواب کی صاحبزادی اور مشہور اداکارہ سارہ علی خان کے ساتھ دلچسپ واقعہ پیش آیا ہے۔
سارہ علی خان نے انڈسٹری میں قدم رکھنے کے بعد اپنی صلاحیتوں سے اداکاری کا لوہا منوایا اور بہت کم عمری میں ہی عالمی سطح پر شہرت حاصل کرلی۔
انہوں نے بہت کم عرصے میں بالی ووڈ کے تقریبا بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔
لاکھوں دلوں کی جان سمجھی جانے والی اداکارہ سارہ علی خان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ گاڑی میں بیٹھی ہیں۔
ویڈیو کے مطابق گاڑی رکنے کے بعد سارہ جیسے ہی دروازہ کھولتی ہیں تو وہاں فقیر پہنچ کر بھیک کی فریاد کرتا ہے۔ اس پر اداکارہ نے اُسے اٹھا کر گاڑی میں پڑے بسکٹ دیے۔
Sara Ali Khan was sitting in her car when a poor person came asking her for something.
She offered him some biscuits.
MAN : Main biscuit nahi khata, thank you ???????? pic.twitter.com/fhCyfu1T02 — News Algebra (@NewsAlgebraIND) December 11, 2025
حیران کن طور پر فقیر نے بسکٹ لینے سے انکار کیا اور جواب دیا کہ ’شکریہ میں بسکٹ نہیں کھاتا میرا سینہ جلتا (بدہظمی ہوتی) ہے‘۔
اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے جن میں سے ایک کا تبصرہ بہت وائرل ہوا۔ صارف نے لکھا کہ ’صرف سارہ خان نہیں بلکہ فقیر کو بھی اپنے کھانے پینے اور صحت کا بہت خیال رہتا ہے‘۔
انٹرنیٹ پر شیئر ہونے والی ویڈیو کے مقام اور شہر کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے تاہم بہت سارے صارفین کا ماننا ہے کہ یہ ویڈیو پپرازی نے ممبئی میں ریکارڈ کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سارہ علی خان
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔