آج کی سزا کے بعد ثاقب نثار ہو یا بانی پی ٹی آئی سب کو سزا ملیگی، طلال چوہدری WhatsAppFacebookTwitter 0 11 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ آج فوج نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ سب کو احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آج کی سزا کے بعد ثاقب نثار ہو یا بانی پی ٹی آئی سب کو سزا ملے گی۔اس فیصلے کے بعد ہماری عدلیہ کو بھی چاہییکہ تیزی سے انصاف کے تقاضے پوریکرے، 9 مئی کے فیصلے کب ہوں گے کیا قیامت والے دن ہوں گے؟

طلال چوہدری سے سوال کیا گیا کہ کیا جنرل باجوہ بھی اس گروپ کا حصہ تھے؟ اور کیا انہیں بھی سزا ملی چاہیے؟ اس پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ اس ادارے نے ایک تگڑا احتساب کرکے بتا دیا ہے وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے، کوئی کتنا ہی طاقتور عہدہ پر رہا ہو، کوئی غیر آئینی غیرقانونی کام کرے گا تو اسے سامنا کرنا پڑیگا، وہ ادارہ جسے کہتے تھے کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا، اس نے آج ایک مثال قائم کی ہے، باقی کب کریں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی جماعت جو اس میں شامل رہی ہے وہ اپنی خود احتسابی کب کرے گی؟ اس فیصلے کی جو پریس ریلیز آئی ہے اس کا آخری پیرا معنی خیز ہے، اس پر غور کرنا چاہیے کہ انہیں خود اپنا احتساب کرنا چاہیے اس سے پہلے کوئی اور کرے،کون سا سیاست دان تھا اور سیاسی جماعت تھی جو مستفید ہوتی رہی، جنہوں نے اپنے اتنے بڑے افسر کو سزا دی کیا وہ چاہیں گے باقی کسی کو معافی ملنی چاہیے، یہ گٹھ جوڑ تھا سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیے، اس گٹھ جوڑ اور غیر آئینی اقدام کا نقصان پاکستان کو ہوا ہے۔

ان سے سوال ہوا کہ کیا آپ کو بانی پی ٹی آئی کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوتا دکھائی دے رہا ہے؟ اس پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جس طرح کے حالات ہیں سب کو پتا ہے بانی پی ٹی آئی اور فیض حمید کا گٹھ جوڑ تھا، بانی پی ٹی آئی کی سیاست ہی فیض حمید کے گرد گھومتی تھی، فیض حمید عہدے پر نہ ہوتے تو بانی پی ٹی آئی کی کبھی حکومت بھی نہ بنتی، بانی پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھے اس وقت بھی ان کا گٹھ جوڑ تھا، ان تمام کے پیچھے جو آرکیٹیکٹ تھا وہ پکڑا گیا ہے، جو اس کے ساتھ بینفشری تھا جس نے دائرہ لینا تھا اس کو بھی کٹہرے میں آنا چاہیے، یہ ایک کلب بنا ہوا تھا، سب نے سوچا تھا ہم ایک دوسرے کو فائدہ دیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیشنل گیمز: واپڈا اور نیوی کے کھلاڑیوں میں جھڑپ، معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا بنگلادیش میں انتخابات 12 فروری کو کرانے کا اعلان،جمہوری اصلاحات پر ریفرنڈم کا بھی اعلان ٹی 20 ولڈکپ کے ٹکٹوں کی فروخت کیلئے جاری پوسٹر میں پاکستانی کپتان کی تصویر غائب، شائقین برہم وزیر اعلی پنجاب کا مرکزی بازاروں اور سڑکوں کے درمیان خوبصورت گرین بیلٹس بنانے کا حکم پاکستان نے عدالتی سماعت میں شرکت پر ناروے کے سفیرکو دفتر خارجہ طلب کرلیا بانی پی ٹی آئی اور فیض حمید اپنے دور کے فرعون تھے: بلاول بھٹو زرداری ریڈ لائن کراس کرنے والے شخص کو آج سزا ہوئی،قانون سب کیلئے برابر ہے، عطا تارڑ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی طلال چوہدری فیض حمید کا کہنا گٹھ جوڑ کے بعد کو سزا

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین