امریکی فورسز کی کمانڈو کارروائی، وینزویلا کے تیل بردار جہاز پر قبضے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
امریکی فوج نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک بڑے تیل بردار جہاز پر فضائی چھاپہ مار کر اسے قبضے میں لے لیا، جسے کاراکاس نے ’بین الاقوامی بحری ڈاکہ زنی‘ قرار دیا۔
انٹرنیشل میڈیا کے مطابق امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک بڑے آئل ٹینکر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وینزویلا کے ساحل سے ایک بہت بڑا جہاز پکڑا ہے، شاید اب تک کا سب سے بڑا ضبط کیا جانے والا جہاز۔
Mapping potential military targets in Venezuela
Yesterday, the U.
w/ @SA_Defensa pic.twitter.com/WmyZ4mK2EY
— Ian Ellis (@ianellisjones) November 15, 2025
امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کمانڈوز ہیلی کاپٹر سے رسیاں ڈال کر جہاز کے ڈیک پر اترتے ہیں اور اسلحہ تھامے جہاز کے برج کی طرف بڑھتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز ’غیر قانونی تیل ترسیلی نیٹ ورک‘ کا حصہ تھا جو ایران اور وینزویلا کا پابندیوں کے تحت تیل لے جا رہا تھا۔
وینزویلا کا شدید احتجاجوینزویلا کی وزارتِ خارجہ نے امریکا کے اس اقدام کو ’بین الاقوامی بحری قزاقی‘ اور ’دن دھاڑے چوری‘ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ جہاز مبینہ طور پر کیوبا کی طرف جا رہا تھا جب امریکی کوسٹ گارڈ نے اسے روک لیا۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریہ کورینا ماچاڈو اوسلو میں عالمی خطاب کرنے والی ہیں۔ وہ کئی ماہ سے منظرِ عام سے غائب تھیں کیونکہ ان کی جان کو خطرات لاحق تھے۔
ٹرمپ نے وینزویلا کو تنبیہ کی کہ اگر ماچاڈو کی واپسی پر انہیں گرفتار کیا گیا تو واشنگٹن خاموش نہیں رہے گا۔
خطے میں امریکی عسکری دباؤ میں اضافہگزشتہ مہینوں میں امریکا نے کیریبین میں بحریہ اور ایئرکرافٹ کیریئرز کی بڑی تعداد تعینات کی ہے، جنہیں واشنگٹن منشیات کے خلاف کارروائی قرار دیتا ہے، جبکہ وینزویلا اسے ’رجیم چینج‘ کی کوشش کہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی حملے کا خوف، عالمی ایئرلائنز وینزویلا کے لیے پروازیں معطل کرنے پر مجبور
امریکی فورسز اب تک 20 سے زائد مبینہ منشیات بردار کشتیوں کو تباہ کر چکی ہیں جن میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہوئے۔
واضح رہے کہ امریکا اور وینزویلا کے تعلقات میں تناؤ کی وجہ 2019 سے جاری تنازع ہے، جب امریکا نے نیکولس مدورو کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔
واشنگٹن مسلسل اپوزیشن کی حمایت کرتے ہوئے مدورو کے استعفے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، اور امریکا کا کہنا ہے کہ وینزویلا منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے، جبکہ کاراکاس اس الزام کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتا ہے۔
دونوں ممالک کے تعلقات 2017 کے بعد مسلسل خراب ہوئے، جب امریکا نے تیل اور تجارتی شعبے پر بڑی پابندیاں لگائیں۔ 2020 سے کیریبین میں امریکی بحری سرگرمیوں میں اضافہ بھی وینزویلا کے نزدیک ’’حملے کی تیاری‘‘ اور ’’ریجیم چینج کی سازش‘‘ کے مترادف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی میرین تیل بردار جہاز وینزویلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی میرین تیل بردار جہاز وینزویلا وینزویلا کے نے وینزویلا امریکا نے
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔