9 سال کی رفاقت کے بعد رشتہ ختم ہونے کا زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے، انوشے اشرف
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
پاکستانی اداکارہ انوشے اشرف نے طویل رفاقت کے بعد رشتہ ختم ہونے کی تکلیف کے بارے میں بات کی ہے۔
انسٹاگرام پر مداحوں کے ساتھ سیشن میں ایک صارف نے اداکارہ سے سوال کیا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں میرا 9 سالہ طویل رشتہ ختم ہوگیا اور میں ابھی تک اُس غم یا تکلیف سے باہر نہیں نکل سکی۔
اس پر انوشے اشرف نے صارف جو شاید خاتون تھیں مخاطب کر کے کہا کہ کسی کے ساتھ 9 سال گزارنا ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے، یقینی طور پر 9 سال کی رفاقت ختم ہو تو اس کا زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بریک اپ کے بعد وقت ٹائم لائن کی طرح گزرتا ہے اور چیزیں یا حالات بہتر ہونے کا کوئی بھی نہیں بتا سکتا مگر ان حالات میں اپنی لیے جینا کمال ہے۔
مزید پڑھیںانوشے اشرف کی نادیہ خان کا مذاق اڑانے کی ویڈیو وائرل
اداکارہ نے صارف کو آگے بڑھنے اور اپنے لیے آج سے ہی زندگی جینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ابھی سے زندگی میں اپنے کیلیے کچھ کریں، جستجو پیدا کریں، اگلی صبح جب سوکر اٹھیں تو سب بھول کر آگے بڑھیں‘۔
View this post on InstagramA post shared by VeryFilmi (@veryfilmi)
انہوں نے کہا کہ آپ کے کچھ دن بہت بھاری ہوں گے مگر کچھ میں دکھ کی کیفیت کم ہوگی مگر یہ اچھی پیشرفت کا آغاز ہے اور ایک دن آپ اس حالت سے نکل جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔