Express News:
2026-07-24@01:53:23 GMT

کون جیتا کون ہارا؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

سیاسی میدان میں جیت ہار کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بانی تحریک انصاف کی صحت پر خوب سیاست ہوئی ہے اور ہو بھی رہی ہے۔ اس لیے ان کے علاج کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس سیاست کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ جہاں تک علاج کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں علاج حکومت کی ذمے داری ہے۔

بانی تحریک انصاف اس وقت حکومت کی تحویل میں ہیں۔ وہ ایک قیدی ہیں۔ اس لیے صرف بانی تحریک انصاف ہی نہیں تمام قیدیوں کا علاج اور ان کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ اس ضمن میں ملک کے قوانین واضح ہیں۔ جب تک عدالت بانی تحریک انصاف کو علاج کے لیے ضمانت پر رہا نہیں کرتی تب تک علاج حکومت کی ذمے داری ہے اور حکومت کی نگرانی میں ہی علاج ہونا ہے۔ اس لیے حکومت کو اپنی ذمے داریاں ادا کرنی چاہیے۔

اب سیاست کی بات کر لیں۔ سیاست میں تحریک انصاف نے اس ضمن میں حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔ ایک سیاسی دباؤ بنانے کی کوشش کی گئی اور ایک عوامی دباؤ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پہلے عوامی دباؤ کی بات کر لیتے ہیں۔ تحریک انصاف نے بانی تحریک انصاف کی صحت پر عوامی احتجاج کی کال دی۔

ان کے پاس نعرہ بھی اچھا تھا کہ بانی کی 85فیصد بینائی ختم ہوگئی ہے، حکومت نے علاج میں کوتاہی کی ہے۔ اس لیے آنکھ کے ضایع ہونے پر تحریک انصاف عوامی جذبات کو ابھارنے اور لوگوں کو سڑکوں پر آنے کا کہہ رہی تھی۔ احتجاج کی باقاعدہ کال دی گئی۔ اب جائزہ اس بات کا لینا ہوگا کہ عوامی احتجاج کی کال کتنی کامیاب رہی ۔سڑکیں بند کرنے کا جائزہ اس کے بعد لیتے ہیں۔ کیونکہ پہلی کال پریس کلبوں کے باہر احتجاج کی تھی۔

تحریک انصاف کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ پاکستان کی مقبول ترین جماعت ہے۔ پھر کے پی کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہاں نوے فیصد لوگ تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ دو تہائی مینڈیٹ بھی موجود ہے۔ لیکن یہ دیکھا گیا کہ تحریک انصاف واضح کال کے باوجود کسی بھی پریس کلب کے آگے کوئی موثر احتجاج نہیں کر سکی۔ پنجاب میں تو احتجاج ہوا ہی نہیں۔ لیکن پنجاب کے حوالے سے تو تحریک انصاف کے پاس یہ بہانہ ہے کہ یہاں حکومت احتجاج نہیں کرنے دیتی۔

حالانکہ میں اس کو ایک کمزور توجیح مانتا ہوں۔ احتجاج ہوتا ہے حکومت کو چیلنج کرتے ہیں۔ کونسی حکومت احتجاج کی کھلم کھلا اجازت دیتی ہے۔ لیکن چونکہ پنجاب کے حوالے سے ایک توجیح موجود ہے۔ اس لیے پنجاب میں کوئی احتجاج نہ ہونے کو اس توجیح کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔

لیکن سوال تو کے پی کا بھی ہے۔ کے پی میں تو حکومت کا کوئی خوف نہیں، وہاں تو حکومت احتجاج نہیں روکتی بلکہ وہاں کی حکومت اور پولیس تو تحریک انصاف کے احتجاج کی مکمل سہولت کاری کرتی ہے۔ وہاں تو گرفتاری کا بھی کوئی خوف نہیں۔ اس لیے وہاں کے احتجاج کا جائزہ لینے پر تو تحریک انصاف کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پشاور میں تو چند سو لوگ بھی نہیں تھے۔ باقی شہروں میں بھی کہیں ایک سو دو سو سے زائد لوگ کہیں جمع نہیں ہوئے۔ تحریک انصاف یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس کی کال پر ہزاروں لوگ احتجاج کے لیے باہر نکل آئے۔ اس لیے پہلے دن احتجاج کی کال ناکام رہی۔ اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے دھرنے میں بھی ارکان پارلیمنٹ تھے، عوام نہیں تھے۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے تو اندر ہی دھرنا دیا گیا۔

اس لیے اس سوال کا جواب ضرور دیا جانا چاہیے کہ عوام باہر نہیں آئے۔ آپ نے 85 فیصد بینائی ختم ہونے کا بیانیہ بنایا۔ لیکن لوگ باہر نہیں آئے۔ کیا لوگوں کو اب تحریک انصاف کے سیاسی بیانیوں پر اعتبار نہیں۔ ان کو اندازہ ہوگیا کہ تحریک انصاف جھوٹ کی بنیاد پر بیانیہ بناتی ہے۔ ان کا سوشل میڈیا بھی جھوٹ بولتا ہے۔ اس لیے لوگوں نے 85فیصد بینائی ختم ہونے پر یقین نہیں کیا اور عوام کو پہلے دن سے یقین تھا کہ علاج ٹھیک ہو رہا ہے۔ دوسرا کیا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت ختم ہوگئی ہے۔ لوگ تحریک انصاف سے دور ہو گئے ہیں۔ اس لیے احتجاج میں نہیں آئے۔ لوگوں کا بانی تحریک انصاف سے رشتہ کمزور ہوگیا ہے۔

بہرحال کئی عوامل پر بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن بات صاف ہے کہ کہیں بھی عوام کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے نہیں نکلی۔ عوام میں کوئی غم و غصہ نظر نہیں آیا، عوام نارمل نظر آئے ہیں۔ اب سڑکیں بند کرنے کا جائزہ لیتے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں کوئی سڑکیں بند نہیں ہوئیں۔ کے پی میں سڑکیں بند ہوئی ہیں۔ تحریک انصاف نے کال دے کر، کے پی کو دوسرے ملک سے ملانے والی سڑکیں بند کی ہیں۔ صوابی انٹر چینج سے موٹر وے بندکی گئی، جی ٹی روڈ بند کی گئی اور بھی کئی سڑکیں بند کی گئی ہیں۔لیکن صوابی انٹر چینج جس کو بند کیا گیا سوال یہ ہے کہ وہاں کتنے لوگ تھے۔ آپ نے اپنے کارکنوں کو زبردستی بلایا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا عوام نے سڑکیں بند کیں یا پھر تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس اور انتظامیہ کی آشیر باد سے سڑکیں بند کی ہیں۔

کہیں کوئی دس ہزار لوگ نہیں تھے۔ چند سو لوگ موجود تھے جو ان کے کارکن تھے۔ سوال یہ بھی ہے کہ سڑکیں بند کرنے میں بھی عوام نہیں آئے۔ کسی سڑ ک پر دس ہزار پچاس ہزار لوگوں نے دھرنا نہیں دیا ۔ جتنے لوگ تھے اتنے لوگ ایک کونسلر بھی اکٹھا کر لیتا ہے۔ اسی لیے تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر کا ایک ٹوئٹ میں نے پڑھا، انھوں نے کہا جو ہزاروں لوگ مجھے سڑکیں بند کرنے کے لیے میسج کر رہے ہیں وہ سب صوابی انٹر چینج پہنچیں۔ لیکن وہاں تو چند سو بھی بمشکل تھے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عوام نے سڑکیں بند نہیں کیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اور ان کے سرکاری سیاسی کارکنوں نے سڑکیں بند کیں۔ لوگ نہیں آئے۔

ویسے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ سڑکیں بند کرنے کا فیصلہ ایک غیر مقبول فیصلہ تھا۔ کے پی لوگ ہی تنگ ہوئے، عوام کو مشکلات ہوئی ہیں۔ کے پی کے لوگوں کا سڑکیں بند کرنے سے دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے سڑکیں کھلوا دی ہیں۔ حالانکہ یہ کام پولیس کو ہائی کورٹ کے حکم کے بغیر ہی کرنا چاہیے تھا لیکن پولیس خاموش تماشائی رہی ۔ کے پی بند کرنے کا جو ایک کارڈ تحریک انصاف کے پاس تھا، وہ بھی ختم ہوگیا۔

اب جیت ہار کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ میں نے تصویر کے دونوں پہلو سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے دلائل بھی آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ بہترین فیصلہ آپ ہی کا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی تحریک انصاف سڑکیں بند کرنے تحریک انصاف کی تحریک انصاف کے سڑکیں بند کی بند کرنے کا کی کوشش کی احتجاج کی نہیں ا ئے حکومت کی کا جائزہ نے سڑکیں اس لیے ا نہیں کر کی گئی کی کال کے لیے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف