WE News:
2026-07-24@00:58:41 GMT

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

جب کبھی عمران خان کی رہائی کی کوئی صورت بنتی نظر آتی ہے، تحریک انصاف اپنی بے بصیرتی سے اسے ضائع کر دیتی ہے۔ اب تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ تحریک انصاف عمران خان کی رہائی چاہتی بھی ہے یا نہیں۔

یہی حالت رہی تو کچھ عجب نہیں کہ ایک وقت آئے جب عمران خان کے چاہنے والوں کو ایک نئی تحریک چلانی پڑے کہ عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ۔

سیاست دھوپ چھاؤں کا نام ہے۔ یہاں ایک راستہ بند ہوتا ہے تو دو راستے نکل بھی آتے ہیں۔ اس کے لیے مگر سیاسی بصیرت  اور تدبر درکار ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کا معاملہ یہ ہے کہ اس نے سیاسی فہم اور تدبر کو اپنا ذاتی دشمن سمجھ رکھا ہے۔

یہ دنیا کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے کارکنان کو پیشہ ور یوٹیوبرز کے اندھے دھندے کا ایندھن بنا دیا ہے۔ وہ آگ لگاتے ہیں اور ڈالر کماتے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کا کارکن وحشت کے اس کھیل میں استعمال ہوتا ہے۔ یوٹیوبرز کے اس دھندے میں وہ دھول اڑی کہ ڈھنگ کی بات کرنے والے اجنبی ہو گئے۔

پارٹی کے اندر ہر وہ رہنما جو کچھ سیاسی شعور اور بصیرت رکھتا تھا اسے ذلیل اور رسوا کیا گیا ، جس نے معقول بات کی اسے غدار قرار دے دیا گیا۔ پارٹی کا بیانیہ پارٹی کی سیاسی قیادت طے نہیں کرتی ، یہ یو ٹیوبرز بناتے ہیں۔

الگوردھم کی پراسرار سرپرستی نے اس کھیل کو بڑا پیچیدہ اور سفاک بنا دیا ہے۔ ہیجان ، نفرت اور ریاست دشمنی کی ریٹنگ آتی ہے، معقول بات کہنے والا گالیاں کھاتا ہے۔

کچھ حالات کا جبر بھی ہو گا لیکن زیادہ یہ بے بصیرتی ہے کہ سیاسی لوگ ایک ایک کر کے دیوار سے لگا دیے گئے اور طفلان خود معاملہ کو فیصلہ ساز بنا دیا گیا۔ جو اپنی اور دوسروں کی عزت سے یکساں درجے میں بے نیاز ہوتا ہے وہ معتبر ہو جاتا ہے، جو تہذیب کا دامن تھامے اسے بزدل قرار دے دیا جاتا ہے۔

لوگوں کو گندی اور غلیظ گالیاں دے دے کر خود سے دور کر دیا۔ حکمت عملی بنا لی گئی کہ جو اختلاف کرے اس کو ایسی ایسی گالیں دی جائیں کہ آئندہ وہ ایسی جرات نہ کر سکے۔ کوئی ان کو سمجھانے والا نہیں تھا کہ بد زبانی کوئی پالیسی نہیں ہوتی۔ اس سے رد عمل پیدا ہوتا ہے۔

حالت یہ ہے کہ وزیر اعلی اعلان فرماتا ہے کہ ہمارا سوشل  میڈیا ہماری اسٹیبلشمنٹ ہے۔لے دے کے ایک محمود اچکزئی صاحب باقی بچے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا سے گذارش کی کہ ہم سب بیٹیوں والے ہیں یہ زبان استعمال نہ کیا کرو۔ ایسا نہیں ہے کہ پارٹی میں سے کوئی اور بہنوں بیٹیوں والا نہیں تھا، ہاں مگر کسی میں ہمت نہیں تھی کہ سوشل میڈیا کے بد زبان جتھوں  سے اختلاف کر کے انہیں اپنے پیچھے لگالیتا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف کا سارا بیانیہ اشتعال، مبالغے ، جھوٹ اور بدزبانی کا شکار ہو گیا۔ کمانے والوں نے تو ڈالر کمائے لیکن سیاسی جماعت کو ایک انتشار پسند جتھے کی شکل دے دی۔ تحریک انصاف ایسی تو نہ تھی۔ نفرت اور دھندے کے اس کھیل میں اس کا اخلاقی وجود برف کے باٹ کی صورت دھوپ میں رکھ دیا گیا۔

اب پارٹی میں سرخرو ہونے اور معتبر ہونے کی ایک ہی صورت تھی۔ اشتعال انگیز بات کرو ، گالیاں دو ، نفرت پھیلاؤ ۔ جو اس فن کے ماہر نہ تھے وہ خاموش ہو بیٹھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی قیادت بیٹھ کر، سوچ کر فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی۔ وہ اب مجبور ہے کہ سوشل میڈیا پر جو نفرت آمیز بیانیہ الگوردم کی مشکوک واردات کے ساتھ پھیلایا جائے اسی پر عمل کرے۔ اسی اخلاقی المیے کو اس قبیلے میں اب  شعور کہا جاتا ہے۔

جب حماقت اور اشتعال ہی دلاوری قرار پائے تو اس کا منطقی انجام یہ ہوا کہ درجن بھر وکیل تو عمران خان کے صدقے معتبر ہوئے اور کچھ پارلیمان جا پہنچے یا وکالت مزید چمکالی لیکن عمران جیل میں ہی رہے۔ یو ٹیوبرز نے دھندا کر لیا لیکن عمران خان رہا نہ ہو سکے۔

ایک گروہ وہ ہے بحران جس کی اکانومی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہی گروہ بیانیہ ساز ہے۔ بحران ختم ہو گا تو اس گروہ کی معیشت سکڑ جائے گی۔ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ بحرانی کیفیت جب تک تھمے گی نہیں، عمران خان کی رہائی ممکن نظر نہیں آ رہی ۔

کم از کم دو مواقع ایسے تھے کہ عمران خان کی رہائی کے معاملات حقیقت بنتے نظر آ رہے تھے لیکن تحریک انصاف نے خود  بحرانی کیفیت پیدا کر کے انہیں تباہ کر دیا گیا۔

 نومبر 2024 میں یہی صورت حال تھی۔ امریکا میں ٹرمپ الیکشن جیت چکے تھے ۔ ایک امکان ضرور تھا کہ کہیں وہ عمران کی رہائی کا مطالبہ نہ کردیں۔ شنید یہ ہے کہ اس سے پہلے ہی معاملات کو نبٹانے کی کوشش کی گئی لیکن تحریک انصاف نے 26 نومبر کو اسلام آباد پر یلغار کر دی۔

واقفان حال بتاتے ہیں کہ اگر چہ عمران خان نے انہیں سنگجانی سے آگے نہ جانے کا کہا اور اگر چہ علی امین گنڈا پور بھی یہی کہتے رہے لیکن بحران زدہ سوچ غالب آئی اور اس کے بعد ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ معاملات طے کر کے تو رہائی ہو سکتی تھی، منگولوں جیسی لشکر کشی کر کے جیل کے دروازے نہیں کھل سکتے تھے ۔

دوسرا موقع اب آیا تھا جب عمران خان کی آنکھ کے حوالے سے علاج معالجے کی خبر باہر آئی۔ ایک وقت تو ایسا آیا کہ عمران خان صاحب کی رہائی بالکل یقینی دکھائی دینے لگی۔ تحریک انصاف کے ایک دوست رہنما نے مجھے مٹھائی تک بھجوا دی کہ رہائی اب یقینی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کو جانے کس نے شہہ دی کہ وہ شاہراہیں اور موٹر ویز بند کر کے بیٹھ گئی، جو معاملہ افہام و تفہیم کے ساتھ حل ہونے جا رہا تھا سڑکوں کی بندش کے احمقانہ اقدام نے اسے الجھا دیا۔

ان دو چار دنوں میں یوٹیوبرز کا دھندا تو خوب چلا ہو گا، علیمہ خان کی عزیمت کے سہرے  بھی بہت کہے گئے ہوں گے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ حاصل کیا ہوا؟ سڑکیں کھل چکی ہیں، ٹریفک رواں ہے لیکن عمران خان ابھی تک جیل میں ہیں۔

اب بھی دیر نہیں ہوئی، پارٹی میں صاحب فہم لوگوں کو آگے آنا ہو گا۔ یو ٹیوبرز کی بجائے سیاسی قیادت کو بیٹھ کر اپنا بیانیہ خود بنانا ہو گا۔ یلغار کی بجائے بیٹھ کر بات کرنا ہو گی۔ بادلوں اور کہکشاؤں سے اتر کر زمین پر آنا ہو گا۔ سیاست تو بند گلی سے راستہ نکال لیتی ہے، جیل کے باہر تو پھر ایک دروازہ موجود ہوتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عمران خان کی رہائی تحریک انصاف یہ ہے کہ ہوتا ہے دیا گیا

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف