Express News:
2026-06-03@01:28:13 GMT

سرحد پارگٹھ جوڑ اور دہشت گردی

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 13 خوارج کو ہلاک کردیا جب کہ حملے کے دوران 11 اہلکار شہید ہوگئے۔ دوسری جانب شہر قائد ایک بڑی تباہی سے بال بال بچ گیا جب شاہ لطیف ٹاؤن میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والے شدید مقابلے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

 ملک بھر میں ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی اور منظم لہر نے سر اٹھا لیا ہے، حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ محض چند منتشر کارروائیاں نہیں بلکہ ایک گہری منصوبہ بندی کے تحت جاری مہم کا حصہ ہیں۔ ان واقعات کی ذمے داری جن عناصر پر عائد کی گئی اور جن کے بارے میں سرکاری سطح پر کہا گیا کہ انھیں بیرونی سرپرستی حاصل ہے، وہ اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی یہ لہر داخلی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ بیرونی مداخلت کا بھی نتیجہ ہے۔ داخلی کمزوری یہ تھی کہ خیبرپختون خوا کی تمام شاہراہیں احتجاجی سیاست کی وجہ سے بند تھیں جس کی وجہ سے دشمن کو وار کرنے کا موقع ملا۔

 گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان بارہا اس امر کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین یا وہاں موجود نیٹ ورکس کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں حالیہ حملوں کو ایک وسیع تر جغرافیائی و اسٹرٹیجک تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔جنوبی ایشیا ہمیشہ سے عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، اس کا ایٹمی طاقت ہونا، چین کے ساتھ اس کے تزویراتی تعلقات، اور خطے میں اقتصادی راہداریوں کے منصوبے بعض قوتوں کے لیے باعثِ تشویش رہے ہیں۔

ایسی صورت میں کسی ملک کو براہِ راست جنگ میں الجھانے کے بجائے پراکسی عناصر کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا ایک آزمودہ حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل، اسلحہ، تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے انھیں اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، سکیورٹی تنصیبات اور شہری آبادی کو نشانہ بنائیں، تاکہ خوف و ہراس کی فضا قائم ہو اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا سکے۔

باجوڑ حملے میں خودکش دھماکہ خیز گاڑی کا استعمال، چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور قریبی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچانا اس بات کی علامت ہے کہ مقصد صرف عسکری نقصان نہیں بلکہ سماجی سطح پر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی تھا۔ دہشت گردی کی حکمت عملی میں نفسیاتی جنگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ جب ایک چھوٹے سے علاقے میں بھی ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا پیغام دور دور تک پہنچتا ہے کہ دشمن ہر جگہ موجود ہے۔ یہی وہ نفسیاتی دباؤ ہے جو سرمایہ کاری، سیاحت، معاشی سرگرمیوں اور عوامی اعتماد پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں دہشت گردوں کی موجودگی اور بارودی مواد کی تیاری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری مراکز کو بھی غیر مستحکم کرنے کی کوشش جاری ہے، اگر کراچی جیسے شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر پڑتے ہیں۔ بندرگاہی سرگرمیاں، بین الاقوامی تجارت، مالیاتی ادارے اور صنعتی یونٹس سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کا اصل ہدف محض جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ ریاستی و معاشی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔

اس نئی لہر کے اسباب و محرکات کو سمجھنے کے لیے ہمیں داخلی اور خارجی دونوں عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ خارجی سطح پر سب سے اہم عنصر علاقائی رقابت اور پراکسی جنگ ہے۔ اگر واقعی پاکستان مخالف عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے تو یہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کو سفارتی، عسکری اور معاشی محاذوں پر دباؤ میں رکھنا ہے۔

افغانستان کی موجودہ سیاسی صورت حال، سرحدی علاقوں کی پیچیدہ جغرافیائی ساخت اور قبائلی روابط دہشت گردوں کے لیے نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں۔ اگر افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر مکمل عملدرآمد یقینی نہیں بنا پاتی تو اس کا براہِ راست نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑتا ہے۔

دوسری جانب بھارت کے ساتھ تاریخی کشیدگی، خصوصاً کشمیر کے مسئلے کے تناظر میں، باہمی اعتماد کی فضا کو کمزور رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں تناؤ اور سرحدی جھڑپیں ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہیں جہاں پراکسی عناصر کے استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر دہشت گرد گروہوں کو مالی یا لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ ٹھوس شواہد کے ساتھ عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، کے فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کرے تاکہ عالمی دباؤ کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔داخلی عوامل بھی کم اہم نہیں۔ گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے، مگر نظریاتی اور مالیاتی نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔

شدت پسند بیانیہ، مذہبی یا نسلی جذبات کا استحصال، اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا نوجوانوں کو متاثر کرتا ہے۔ جب تک ان فکری جڑوں کو نہیں کاٹا جائے گا، دہشت گردی کی نئی شکلیں سامنے آتی رہیں گی، لہٰذا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض عسکری کارروائی کافی نہیں۔ ایک ہمہ جہت حکمت عملی ناگزیر ہے جس کے چند بنیادی ستون ہوں۔ پہلا ستون انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کا مربوط نظام ہے۔ مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر بنایا جائے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر مانیٹرنگ کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کی نقل و حرکت، مالی لین دین اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ سرحدی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے، باڑ کی تکمیل اور جدید آلات کے استعمال سے دراندازی کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔

دوسرا ستون نظریاتی محاذ ہے۔ علما، دانشور، اساتذہ اور میڈیا کو مل کر ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو انتہا پسندی کی فکری بنیادوں کو چیلنج کرے۔ مذہب کے نام پر تشدد کو بے نقاب کرنا اور آئینی و جمہوری اقدار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نصابِ تعلیم میں تنقیدی سوچ، برداشت اور مکالمے کی ثقافت کو شامل کرنا طویل المدتی استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، ہنر مندی کے پروگراموں اور قومی دھارے میں شمولیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ شدت پسند عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں۔تیسرا ستون معاشی و سماجی ترقی ہے۔

قبائلی اضلاع اور سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے تو ان کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور وہ دہشت گردوں کے خلاف ریاست کا ساتھ دیتے ہیں۔ مقامی عمائدین اور کمیونٹی لیڈرز کو امن کمیٹیوں کے ذریعے شامل کر کے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

چوتھا ستون سفارت کاری ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل مکالمہ جاری رکھے اور واضح پیغام دے کہ کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔ اگر افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے اختلافات ہیں تو انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی، خواہ تعلقات کشیدہ ہی کیوں نہ ہوں، بیک چینل یا رسمی سفارتی ذرائع سے اس مسئلے کو اٹھایا جانا چاہیے تاکہ غلط فہمیوں اور الزامات کی سیاست کے بجائے شواہد اور حقائق کی بنیاد پر بات آگے بڑھے۔

پانچواں اور سب سے اہم ستون قومی یکجہتی ہے۔ دہشت گردی کا مقصد معاشرے کو تقسیم کرنا، فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات کو ہوا دینا اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے معاملے پر متحد ہو جائے تو دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ میڈیا کو بھی ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنسنی خیزی کے بجائے ذمے دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینا چاہیے۔آج کا تقاضا یہی ہے کہ دہشت گردی کو محض ایک سیکیورٹی چیلنج کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے قومی بقا اور مستقبل کے تناظر میں سمجھا جائے۔

اگر ہم نے مربوط حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سفارت کاری، نظریاتی اصلاح اور معاشی ترقی کو یکجا کر لیا تو دہشت گردی کی یہ نئی لہر بھی دم توڑ دے گی۔ بصورت دیگر، وقتی کامیابیاں بھی مستقل امن میں تبدیل نہیں ہو سکیں گی۔ فیصلہ کن لمحہ آن پہنچا ہے، اور قوم کو ایک بار پھر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور ہر سطح پر دشمن کے عزائم کو ناکام بنائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے دہشت گردی کی پاکستان کو حکمت عملی بنایا جا کے ذریعے سکتا ہے کے ساتھ کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 

سٹی 42:صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش  کی 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ   نے  بلوچستان میں 17 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پوری قوم کو اپنے  جوانوں پر فخر کرتی ہے۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے  بلوچستان کے  مختلف اضلاع  میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش  کی ۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔  17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

وزیراعظم محمد شہباز شریف  نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے  بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17  فتنتہ الھندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا  قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے  بلوچستان میں فتنۂ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صدرِ مملکت نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہا ۔ صدر مملکت نے کہا ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا اولین ترجیح ہے۔فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی