Express News:
2026-07-24@02:01:23 GMT

پنکھے کی گردش، دل کی دھڑکن، بل کا خوف

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

اب بجلی کا بل کوئی کاغذ نہیں رہا، یہ دہشت کی وہ چٹھی ہے جو ہر مہینے آتی اور غریب کے دل کی دھڑکن تیز کردیتی ہے۔ گھر کے سکون پر مہر لگا دیتی ہے جسے پڑھتے ہی ماں کا دل لرزنے لگتا ہے، باپ کی آنکھوں میں خوف اتر آتا ہے اور بچہ پنکھے کی گردش روک دیتا ہے کہ یہ وہ بجلی بل ہیں جس نے عوام کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے اور اگر بل کئی ماہ تک ادا نہ ہو سکے تو بجلی کاٹنے کی دھمکی بھی آ جاتی ہے اور یہ دھمکی اگر کام کر گئی تو غریب کا پنکھا نہیں چلے گا۔

 فریج نہیں چلے گا تو بوڑھے پنشنر کی شوگر والی انسولین خراب ہو جائے گی۔ یہی بل ہیں جو بزرگ کا بی پی بڑھاتا ہے اور شوگر بھی بڑھاتا ہے اور بجلی کا بلب نہیں جلے گا تو بچوں کی تعلیم کا چراغ بجھ جائے گا۔ ایک مزدور جو صبح 5 بجے اٹھتا ہے سارا دن دھوپ میں مزدوری کرکے پسینہ بہاتا ہے، شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے اور پھر جب اس کے ہاتھ بجلی کا بل آتا ہے تو رقم دیکھ کر اسے یوں معلوم دیتا ہے کہ اس کے سینے پر کسی نے پتھر رکھ دیا ہے کیونکہ یہاں بجلی کے یونٹ کم ہوتے ہیں اور سزا زیادہ۔

ادھر عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ حکومت بجلی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والوں پر نہ ڈالے۔ پاکستانی حکام سے مذاکرات میں دیکھا جائے گا کہ مجوزہ ٹیرف تبدیلیاں پروگرام کی شرائط کے مطابق ہیں یا نہیں اور میکرو اکنامک استحکام بشمول مہنگائی کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔ آئی ایم ایف کو اندازہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی عوام کو توڑ چکی ہے۔ اگر بجلی کے نرخ بڑھتے ہیں تو روٹی مہنگی، آٹا مہنگا، دودھ مہنگا، ٹرانسپورٹ مہنگی، دکاندار چیزیں مہنگی کرتا چلا جائے گا اور بے روزگاری بڑھتی چلی جائے گی۔ عجیب بات ہے آئی ایم ایف جیسے ادارے نے بھی کہہ دیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والوں پر نہ ڈالا جائے۔ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ یہ بجلی کے بل صرف کاغذ نہیں، یہ عوام کی برداشت کی رسی ہے۔ یہ رسی مسلسل کھینچی جا رہی ہے، پاکستان میں آج بجلی کا بل ایک قومی المیہ ہے۔

یہ وہ المیہ ہے جس میں غریب کے گھر کا چولہا بجھ رہا ہے۔ بچوں کو تعلیم سے اٹھایا جا رہا ہے، پنشنرز کی دو وقت کی روٹی چھوٹ رہی ہے ۔ حکومت اگر بجلی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والوں پر ڈالے گی تو یہ صرف مہنگائی نہیں، معاشی ظلم بن جائے گا۔ کیونکہ امیر آدمی کے لیے بجلی کا بل ایک خرچ ہے جس میں کمی بیشی بھی ہو جائے تو اس کے لیے معمولی بات ہوتی ہے۔ لیکن غریب کا بل اب بوجھ بن گیا ہے اور بڑھا ہوا یہ بل اب غریب کے لیے روٹی، دوائی اور بچوں کی فیس کے مقابل کھڑا ایک عذاب ہے۔

کم آمدنی والا طبقہ پہلے ہی آٹے، دال، گھی اور سبزی کی قیمتوں سے پس رہا ہے، کرایہ، جس میں گزشتہ دو تین سال سے بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے، بچوں کے اسکول فیس اور علاج کے اخراجات سے ٹوٹ چکا ہے ، پرائیویٹ نوکریاں کرنے والوں پر ہر وقت نکالے جانے کا خوف طاری ہے، گزشتہ کئی سالوں سے تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں، ایسے میں بجلی نرخ مزید بڑھ جاتے ہیں تو غربت میں اضافہ ہوگا، بے روزگاری بڑھ جائے گی اور گھریلو زندگی مزید بحران کا شکار ہو کر رہ جائے گی۔

حکومت کو چاہیے کہ کم ازکم 400 یونٹ تک بجلی خرچ کرنے والوں کو ریلیف دے،کیونکہ اب ہر غریب کے لیے ضروری ہے کہ وہ فریج کا استعمال کرے اور ایسا کرنا اب ضروریات زندگی میں شامل ہے۔ اکثر افراد شوگر کا شکار ہیں اور ان لوگوں کی اکثریت کو ڈاکٹر انسولین تجویز کرتے ہیں جسے کم درجہ حرارت پر رکھنے کے لیے فریج کا استعمال لازمی ہے اور سخت ترین گرمی میں غریب کو اتنا حق ضرور ملنا چاہیے کہ وہ ٹھنڈا پانی استعمال کر سکے، اگر بوجھ ڈالنا ہے تو نادہندگان کے بڑے گروپ کو تلاش کرے۔ بجلی چوری کرنے والے بڑے نیٹ ورکس کے گرد شکنجہ کسنا شروع کرے۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کنٹرول کیا جائے۔

حکومت فوری طور پر لائن لاسز کو کم سے کم کرے۔ بجلی چوری روکی جائے۔ بل وصولی بہتر ہو، ناقص انتظامی نظام ٹھیک کیا جائے۔ پاکستان میں حکومت نے اپنے طور پر یا آئی ایم ایف کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے جس سے بجلی کے بل عام افراد کے لیے عذاب بن کر رہ گئے ہیں، یعنی بجلی کے بل اب صرف بل نہیں رہے بلکہ پوری معیشت کا خون ہے حکومت بجلی کے شعبے میں چوری، لائن لاسز دیگر نقصانات، انتظامی اہلیت کا فقدان اور دیگر باتوں کی اصلاح کے بجائے آسان راستہ چنتی ہے جس سے غریب آدمی سخت گرمی میں بھی پنکھے کی گردش روک دیتے ہیں، ورنہ اس کے دل کی دھڑکن بے قابو ہو جاتی ہے کیونکہ ہر ماہ بڑھتے ہوئے بجلی بل کا خوف اسے ہر دم ستائے رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بجلی کا بل والوں پر غریب کے جائے گی جائے گا بجلی کے رہا ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران