ٹائم میگزین نے اعلان کیا کہ 2025 کا پرسن آف دی ایئر وہ افراد ہیں جنہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو تخیل، ڈیزائن اور تعمیر کے ذریعے معاشرے کے مختلف شعبوں میں نمایاں اثرات ڈالے ہیں۔

ٹائم کے ایڈیٹر ان چیف سام جیکبز نے قارئین کے نام خط میں لکھا کہ پرسن آف دی ایئر دنیا کی توجہ ان لوگوں کی جانب مرکوز کرنے کا ایک طاقتور طریقہ ہے جو ہماری زندگیوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ اور اس سال، کسی کا اثر اے آئی کے معماروں سے زیادہ نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی خلائی کانفرنس: سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر عالمی سطح کے تبادلے کا آغاز

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ سال تھا جب مصنوعی ذہانت کی پوری صلاحیت سامنے آئی، اور یہ واضح ہو گیا کہ اب کوئی پیچھے ہٹنے یا اس سے بچنے کا راستہ نہیں۔ جو بھی سوال تھا، اس کا جواب اے آئی تھا۔

ٹائم میگزین نے اپنے 2025 کی پرسن آف دی ایئر کی دو کور تصاویر بھی جاری کی ہیں، ایک میں اے آئی کے اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ دوسری تصویر میں ٹیکنالوجی کے رہنما مارک زکربرگ، لیزا سو، ایلون مسک، جینسن ہوانگ، سیم آلٹمین، ڈیمس ہسابیس، ڈاریو اموڈی اور فی فی لی کو دکھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’اے آئی ایٹمی طاقت جیسی، نیا عالمی ’اے آئی کلب‘ بن رہا ہے‘

میگزین نے اے آئی کو سب سے اہم آلہ قرار دیا جو بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے بعد سب سے زیادہ اثرانداز ہو سکتا ہے۔

ٹائم میگزین کا یہ اعزاز گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کے بعد حاصل کیا تھا، انہوں نے 2016 میں بھی یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی ٹائم میگزین مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے آئی ٹائم میگزین مصنوعی ذہانت پرسن آف دی ایئر مصنوعی ذہانت ٹائم میگزین میگزین نے اے آئی

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟