Jasarat News:
2026-06-03@06:09:53 GMT

کیلکولیٹر اور مصنوعی ذہانت کی کشمکش

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251210-03-4

 

محمد مطاہر خان

اعداد کی اس کائنات میں جہاں رفتار کو برتر سمجھا جاتا ہے اور پیچیدہ الگورتھم انسانی صلاحیتوں کی سرحدوں کو روز نئے زاویوں سے چیلنج کرتے ہیں، وہاں ایک سادہ سا آلہ کیلکولیٹر اب بھی اپنے غیر متزلزل اعتماد کے ساتھ موجود ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں ایسی ریاضیاتی پیچیدگیاں حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جنہیں انسان شاید عمر بھر سمجھنے میں بھی ناکام رہے۔ بین الاقوامی ریاضی مقابلوں میں AI ماڈلز ’’گولڈن گریڈ‘‘ اسکور حاصل کر رہے ہیں، پیچیدہ الجبرا، کیلکس اور عددی تجزیے میں حیران کن نتائج دکھا رہے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک دلچسپ حقیقت آج بھی برقرار ہے: روزمرہ حساب، بنیادی جمع تفریق اور عام استعمال کے ریاضیاتی افعال میں انسان اور کیلکولیٹر کی جوڑیاں اب بھی AI پر سبقت رکھتی ہیں۔ یہ حقیقت محض تکنیکی نہیں بلکہ نفسیاتی، معاشی اور تعلیمی عوامل کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہے۔

جاپان کی معروف کمپنی Casio، جو گزشتہ نصف صدی سے عالمی ریاضیاتی معیارات کا حصہ ہے، اب بھی دنیا بھر میں اپنے کیلکولیٹرز کی مستقل مانگ دیکھ رہی ہے۔ کمپنی کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ مارچ 2025 تک Casio نے سو سے زائد ممالک میں تقریباً 39 ملین جنرل اور سائنسی کیلکولیٹر فروخت کیے۔ یہ تعداد نہ صرف اس آلے کی پائیدار ضرورت کی علامت ہے بلکہ اس بات کا عملی ثبوت بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ہنگاموں کے باوجود بعض چیزیں اپنی سادگی، استحکام اور اعتماد کی وجہ سے اپنی جگہ برقرار رکھتی ہیں۔ اگرچہ عالمی مارکیٹ میں معمولی کمی ضرور دیکھی گئی ہے، مگر کیلکولیٹر کی سماجی و تعلیمی حیثیت آج بھی کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط دکھائی دیتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب مصنوعی ذہانت لمحوں میں ایسے حل پیش کر سکتی ہے جو ایک عام انسان کے لیے ناقابل ِ تصور ہوں، تو پھر آخر کیلکولیٹر جیسے روایتی آلے کی گنجائش، وقعت اور مانگ کیوں برقرار ہے؟ اس سوال کا جواب صرف ایک تکنیکی تقابل میں پوشیدہ نہیں، بلکہ انسانی اعتماد اور مشینی اعتبار کے گہرے رشتے میں موجود ہے۔ کیلکولیٹر ایک ایسا آلہ ہے جو اپنی فطری ساخت اور محدود دائرۂ عمل کی وجہ سے غلطی نہیں کرتا۔ اس کا ہر نتیجہ ریاضیاتی اصولوں، منظم طریقہ کار اور غیر مبہم لوجک پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں AI، اگرچہ حیرت انگیز طور پر ہوشیار ہے، مگر بنیادی حساب مثلاً 12 + 27 یا 150 ÷ 5 جیسے سادہ ترین سوالوں میں بھی کبھی کبھار غلط جواب دے دیتی ہے۔ اس کی وجہ اس کے تربیتی ڈیٹا، پیش گوئی پر مبنی طرزِ استدلال اور زبان ماڈل پر مبنی ساخت ہے۔ AI حساب کو ریاضی کے اصولوں کے بجائے زبان کے انداز میں حل کرتی ہے، اس لیے ’’غلطی‘‘ اس کے نظام کی فطری کمزوری بھی ہے اور حد بھی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں کیلکولیٹر اپنے سادہ مگر شفاف منطق کی وجہ سے برتری رکھتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں، جہاں تعلیمی ادارے اب بھی سادہ آلات پر انحصار کرتے ہیں، وہاں کیلکولیٹر کی اہمیت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اسے ریاضیاتی تربیت کا لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسکولوں میں امتحانات کے دوران، ریاضی کے اساتذہ کے سامنے، کلاس روم کی میزوں پر ہر جگہ کیلکولیٹر کو ایک معتبر اور قابل ِ اعتماد ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ آلہ ہے جس پر نہ تو انٹرنیٹ کی ضرورت ہے، نہ پیچیدہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کی، نہ ڈیٹا سیکورٹی کے مسائل کی، نہ غلط فہمی کے خدشات کی۔ اس کا ہر جواب معروضیت کا استعارہ ہوتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور تیز رفتار ترقی کے باوجود انسانی معاشرہ اب بھی ایسے آلات اور ایسی ٹیکنالوجی تلاش کرتا ہے جن کی بنیاد غیر مبہم اصولوں پر ہو۔ کیلکولیٹر کی مقبولیت کا تعلق اس کی تکنیکی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اس ذہنی سکون سے بھی ہے جو یہ فراہم کرتا ہے۔ ایک ماہر حساب دان ہو یا ایک عام طالب علم، دونوں کے لیے کیلکولیٹر کا جواب کبھی مشکوک نہیں ہوتا۔ AI کے برعکس یہ کبھی الجھن پیدا نہیں کرتا، کبھی متبادل جواب پیش نہیں کرتا، کبھی کہانی نہیں گھڑتا، کبھی اپنے تخمینے کو حقیقت کا رنگ نہیں دیتا۔ یہ صرف اور صرف اعداد کی زبان سمجھتا ہے اور اعداد کی زبان میں ہی جواب دیتا ہے صاف، واضح اور ناقابل ِ تردید۔

مصنوعی ذہانت کی بے مثال صلاحیتوں کے باوجود ایک اور حقیقت بھی نمایاں ہے۔ انسانی ذہن تجریدی ریاضیاتی سوچ، تشریح، استدلال اور تخلیق کے مراحل میں اب بھی AI سے بلند تر حیثیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی ریاضیاتی مقابلوں میں AI کے ’’گولڈن گریڈ‘‘ اسکور متاثر کن ضرور ہیں، لیکن جب بات حقیقی نمبروں، تہہ در تہہ فارمولوں، ثبوتوں، دلیلوں اور بنیادی ریاضیاتی اصولوں کی آتی ہے تو انسان آج بھی اس میدان کا اصل معمار ہے۔ AI کے نتائج دراصل انسانوں کے بنائے ہوئے ڈیٹا، اصولوں اور کوڈز کا عکس ہیں، جب کہ انسان ریاضی کو صرف حل نہیں کرتا بلکہ ایجاد بھی کرتا ہے۔ اسے ثابت بھی کرتا ہے، اس پر سوال بھی اٹھاتا ہے، اس میں نئے جہت بھی تلاش کرتا ہے۔ کیلکولیٹر اسی انسانی سوچ کا ایک عملی اور بے خطا امتداد ہے۔

کیسیو (Casio) کے تازہ اعدادو شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ جب ٹیکنالوجی بہت تیز ہو جائے، تو انسان بعض اوقات سست مگر یقینی راستے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ رجحان صرف امید افزا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے ایک اہم اشارہ بھی ہے کہ ترقی ہمیشہ پیچیدگی میں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات سادگی کے اندر وہ قابل ِ اعتماد بنیادیں چھپی ہوتی ہیں جو ایک تہذیب کی علمی ساخت کو مستحکم رکھتی ہیں۔ کیلکولیٹر اس کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ آلہ نہ صرف تعلیمی ڈھانچے میں اپنی جگہ رکھتا ہے بلکہ عددی دنیا کی اس جنگ میں ’’استحکام‘‘ کے ایک علامتی استعارے کے طور پر بھی زندہ ہے۔

مصنوعی ذہانت کے تیز قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے یہ ممکن ہے کہ دنیا کے بہت سے آلات وقت کے بہاؤ میں تحلیل ہو جائیں۔ مگر کیلکولیٹر کی سادگی، شفافیت، درستی، کم لاگت اور اعتماد کا امتزاج اسے اس طوفانی تبدیلی کے دور میں بھی ایک مضبوط ستون کے طور پر قائم رکھے ہوئے ہے۔ انسانی معاشرہ آج بھی جانتا ہے کہ جہاں نظریات بدلتے ہیں، الگورتھم اپ ڈیٹ ہوتے ہیں، ڈیٹا تبدیل ہوتا ہے وہاں ایک عددی دنیا ایسی بھی ہے جس میں جواب صرف ’’ایک‘‘ ہوتا ہے، صرف ’’صحیح‘‘ ہوتا ہے، اور یہی وہ دنیا ہے جس میں کیلکولیٹر اب بھی حکمرانی کر رہا ہے۔

 

محمد مطاہر خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت کے باوجود نہیں کرتا کے ساتھ کرتا ہے ہوتا ہے ا ج بھی کی وجہ اب بھی بھی ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا