پاکستان میری ٹائم سکیورٹی کی3 روزہ سمندری مشقوں کا آغاز، 25ممالک شریک
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
کراچی:(نیوزڈیسک) پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی 13ویں باراکوڈا سمندری مشقوں کا آغاز 9 دسمبر سے ہورہا ہے،3روزہ مشقوں کےدوران سی فیز اور ہاربر فیز مشقیں کی جائینگی، مشقوں میں 25ممالک شریک ہورہے ہیں۔
13ویں باراکوڈامشق کی پرچم کشائی کی تقریب پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ہیڈکواٹرز میں ہوگی، جس میں مختلف ممالک سے آئے مندوب، مبصرین اور دفاعی اتاشی شریک ہونگے، باقاعدہ افتتاحی تقریب شہر کے مقامی ہوٹل میں ہوگی،جس میں وفاقی وزیرتصدق ملک بطورمہمان خصوصی شریک ہونگے۔
پہلےروزمیری ٹائم سیمینارکا انعقاد ہوگا،جس میں پاکستانی اور غیرملکی ماہرین مقالات پڑھےگے، ترجمان پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق 13ویں بارا کوڈا مشق 9سے11دسمبر تک منعقد کی جارہی ہے، باراکوڈا مشق بیک وقت سی اور ہاربر فیزز پرمشتمل ہوگی، گہرے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو اور تیل کے رساو کے عملی مظاہرے پیش کیےجائینگے،بحری تحفظ اورماحولیاتی تحفظ سمندری شعبے میں نہایت اہم خدشات کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔
ساحلی ممالک کو مسلسل سمندری آلودگی،تیل کے رساؤ،خطرناک کارگو حادثات اور سمندر میں قدرتی آفات جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے، سمندر حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھتے ہیں اور عالمی تجارت کو سہارا دیتے ہیں،سن 2003میں کراچی بندرگاہ پر ایم وی تسمان اسپرٹ کے گراؤنڈ ہونےسے 30,000 ٹن سے زیادہ تیل سمندر میں پھیل گیا،جس سے 2000 مربع کلومیٹر سےزائد ساحلی علاقہ اورتقریباً 16 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی متاثر ہوئی تھی، حادثےنے سمندری حیات، مینگرووز، جنگلی حیات اور حساس ساحلی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا۔
یہ پاکستان کی تاریخ کی بدترین بحری ماحولیاتی آفات میں سے ایک ثابت ہوئی جس نے صحت، معاشرتی اور ماحولیاتی مسائل کو جنم دیا،اس سمندری واقعےنے مشقوں کی ضرورت کواجاگرکیا، پاکستان کا میری ٹائم زون ہزاروں مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جس میں علاقائی پانی، متصل علاقہ اور خصوصی معاشی زون شامل ہے جو ماہی گیری، توانائی کے وسائل، تجارتی راستوں اور ساحلی روزگار کو سہارا دیتا ہے، یہ ماحول تیل کے رساؤ، صنعتی آلودگی، سمندری حادثات اور خطرناک کارگو نقل و حمل جیسے مستقل خطرات سے دوچار ہے۔
اس طرح کے واقعات ماحولیاتی نظام، معیشت اورپاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں،اسی طرح سمندری جہازوں پر ہونے والے غیر متوقع حادثات انسانی جانوں اورسمندری حیات دونوں کےلیےخطرناک ثابت ہوسکتےہیں،جس کےلیےمضبوط طریقہ کار ضروری ہیں،ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ممالک بڑے پیمانے پر مشترکہ مشقیں کرتے ہیں،جن میں تیل کے رساؤ، بڑے پیمانے پر انخلا اورسرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز شامل ہوتے ہیں۔
یہ مرحلہ منوڑہ بیچ پرتیل کےرساؤ سےنمٹنے والے آلات، آلودگی کنٹرول ٹولز،بوم تعیناتی کےطریقہ کاراورکوآرڈی نیشن طریقہ کار کی نمائش پرمشتمل ہوتا ہے۔ یہ مرحلہ مختلف مقامی ایجنسیوں کےدرمیان ہم آہنگی اورسمندرمیں حقیقی مشق سے پہلےتیاری کوبہتربناتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان میری ٹائم تیل کے رساو
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :