کیا سردیاں رومانس کا موسم لے آتی ہے، اس دوران رومانٹک موڈ کے پیچھے کیا سائنس ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
ہر سال خزاں کے آخری مہینوں سے ایک ثقافتی رجحان جسے کفنگ سیزن کہا جاتا ہے ڈیٹنگ کی دنیا میں نمودار ہوجاتا ہے۔ اس دوران اکیلے لوگ سرد، تاریک اور طویل موسم سرما کے لیے رومانوی تعلقات تلاش کرتے ہیں مگر کیا اس کے پیچھے کوئی سائنس بھی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ اس موضوع اور اس موسم کے دوران لوگوں کے جذبات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
کفنگ سیزن کیا ہے؟کفنگ سیزن میں اکیلے افراد گرمیوں کی آزادی اور بے فکری کو پیچھے چھوڑ کر سردیوں میں کسی رومانوی ساتھی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔
اس کا مقصد صرف سکون یا خوشی ہی نہیں بلکہ کبھی کبھار خاندان کے اجتماعات میں کسی خاص شخص کے ساتھ وقت گزارنا اور سردیوں میں کسی کے قریب رہنا بھی ہوتا ہے۔
سائنس کیا کہتی ہے؟سینٹ جوز سٹیٹ یونیورسٹی کی ماہر نفسیات، کرسٹین ما کیلمز کے مطابق کچھ حیوانات میں تولید کے رویے موسمی ہوتے ہیں مگر انسان موسمی طور پر جنسی رویہ نہیں رکھتے۔
مزید پڑھیے: بھاری کمبل میں اچھی نیند کیوں آتی ہے؟
تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ آن لائن ڈیٹنگ، پورن اور دیگر جنسی سرگرمیوں میں اضافہ صرف سردیوں میں نہیں بلکہ گرمیوں میں بھی ہوتا ہے۔
کچھ مطالعے یہ بتاتے ہیں کہ کرسمس اور نئے سال کے موقع پر انسانی جنسی سرگرمی اور غیر محفوظ تعلقات میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے مگر موجودہ تحقیق سے یہ رجحان مستقل نہیں لگتا۔
ڈیٹنگ ایپس اور موسمی رجحانڈیٹنگ ایپس کے اعداد و شمار کے مطابق خزاں اور سردی میں ساتھی تلاش کرنے کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: ڈراؤنی فلمیں دماغ پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں؟
بمبل کی تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ ’سوائپ‘ کا وقت نومبر کے آخر سے فروری کے وسط تک ہوتا ہے۔ اس دوران ویلنٹائن ڈے کے موقع پر رومانوی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں جو بعض اوقات تعلقات کے ختم ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔
کِنسی انسٹی ٹیوٹ، انڈیانا یونیورسٹی کے ماہر جسٹن گارسیا کہتے ہیں کہ لوگ رومانوی تعلقات اور تعطیلات کے بارے میں زیادہ سوچنے لگتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آن لائن ڈیٹنگ سال بھر ہوتی ہے لیکن سردیوں میں یہ سرگرمی بڑھ جاتی ہے کیوں کہ شاید لوگ زیادہ وقت گھر میں گزارتے ہیں اور نئے لوگوں سے رابطہ فون کے ذریعے کرتے ہیں۔
انسانی رویہ اور حیاتیاتانسان دیگر حیوانات کی طرح مخصوص موسم میں تولید نہیں کرتے۔ یونیورسٹی آف انڈیانا کی بایولوجی کی ماہر سُو کارٹر کہتی ہیں کہ انسان اپنے جنسی اور سماجی رویے میں موقع پرست ہوتے ہیں اگر موقع ملے تو بہت سے افراد تعلقات قائم کر لیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سردیوں میں موسمی افسردگی اور کم دن کی روشنی سے لوگوں میں تنہائی اور ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان میں سردیاں کیسے گزاری جاتی ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران سیروٹونن اور آکسیٹوسن جیسے ہارمونز متاثر ہوتے ہیں جو خوشی، محبت اور سماجی بندھن کے لیے ضروری ہیں۔
آکسیٹوسن کو ’محبت کا ہارمون‘ کہا جاتا ہے اور یہ جسمانی قربت سے بڑھتا ہے جیسے گلے لگنا یا جنسی تعلق۔
سردیوں میں رومانوی رجحانمحققین کے مطابق سردیوں میں لوگ جسمانی اور جذباتی قربت کے ذریعے خود کو بہتر محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قربت اور رومانس خوشی اور اطمینان میں اضافہ کرتا ہے۔
جسٹن گارسیا کہتے ہیں کہ کفنگ سیزن ہمیں یہ سکھا سکتا ہے کہ ہم تعلقات کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں۔ خاندان اور دوست ہمارے رومانوی انتخاب پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: تیار کرنے کے لیے بھیڑ کا گوشت خشک کرنے کی قدیم روایت آج بھی زندہ ہے
اگرچہ انسان موسمی طور پر تولید نہیں کرتا مگر ثقافتی اور سماجی عوامل سردیوں میں رومانوی تعلقات کی جانب مائل کرتے ہیں۔
جنریشن زی اور ملینیئلز اپنی رومانوی ترجیحات پر نظرثانی کر رہے ہیں اور ڈیٹنگ کے طریقے بدل رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جنریشن زی سے مراد وہ لوگ ہیں جو تقریباً سنہ 1997 سے سنہ 2012 کے درمیان پیدا ہوئے اور جو ڈیجیٹل دنیا میں پیدا اور پروان چڑھے ہیں۔
جبکہ ملینیئلز وہ نسل ہے جو تقریباً سنہ 1981 سے سنہ 1996 کے درمیان پیدا ہوئی اور جس نے ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے عروج کو جوانی میں دیکھا۔
مزید پڑھیے: پشین کا ایک صدی پرانا ذائقہ: سرانان کا عالمی شہرت یافتہ لاجواب روش
انسانی فطرت کے مطابق ہم معاشرتی مخلوق ہے۔ تعلقات کے ذریعے ہم اپنی شخصیت اور خواہشات کو سمجھتے ہیں۔ سردیوں میں کچھ لوگ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے کفنگ سیزن میں شریک ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ کے لیے یہ محض وقت گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آکسیٹوسن خوشی کے ہارمونز دسمبر کا رومانوی مہینہ سردی کا موسم سردیاں سیروٹونن کفنگ سیزن محبت کا موسم محبت کا ہارمون موسم اور محبت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آکسیٹوسن خوشی کے ہارمونز دسمبر کا رومانوی مہینہ سردی کا موسم سردیاں سیروٹونن کفنگ سیزن محبت کا موسم محبت کا ہارمون موسم اور محبت سردیوں میں کفنگ سیزن کے مطابق کرتے ہیں ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔