سردیوں میں کیا کھائیں؟ ٹھنڈے موسم میں جسم کو طاقت دینے والی غذائیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
جیسے ہی سردیاں اپنے قدم جماتی ہیں، انسانی جسم کو نہ صرف اضافی توانائی کی ضرورت پڑتی ہے بلکہ ایسی غذاؤں کا استعمال بھی اہم ہوجاتا ہے جو موسم کے اثرات سے بچانے کے ساتھ ساتھ قوتِ مدافعت بھی بڑھائیں۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق سرد موسم میں چند مخصوص غذائیں جسم کو اندر سے گرم رکھتی ہیں، توانائی بڑھاتی ہیں اور بیماریوں کے خلاف مضبوط ڈھال بنتی ہیں۔
سردیوں میں خشک میوہ جات مثلاً بادام، اخروٹ، کاجو اور مونگ پھلی سب سے زیادہ مفید سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں صحت مند چکنائی، وٹامن ای اور پروٹین کی خاصی مقدار ہوتی ہے جو جسم کو گرم رکھتی ہیں اور دماغی صلاحیت بھی بہتر بناتی ہیں۔
اسی طرح موسمی سبزیاں، جیسے پالک، میتھی، گاجر اور شلجم، وٹامن اے، سی اور آئرن سے بھرپور ہوتی ہیں۔ گاجر کا استعمال بینائی کے لیے اچھا جبکہ پالک اور میتھی خون میں آئرن کی کمی دور کرنے میں مددگار ہیں۔
انڈے سردیوں کا بہترین ناشتا سمجھے جاتے ہیں۔ انڈے پروٹین، وٹامن ڈی اور بی کمپلیکس سے بھرپور ہوتے ہیں جو قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں اور جسم کو سردی کے خلاف توانائی دیتے ہیں۔
سوپ بھی سرد موسم کی نمائندہ غذا ہے۔ چکن سوپ، ٹماٹر سوپ اور سبزیوں کا سوپ نہ صرف جسم کو گرم رکھتے ہیں بلکہ سردی اور انفیکشن سے بچانے کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ سردیوں میں شہد، ادرک اور دار چینی کا استعمال بڑھایا جائے۔ ادرک چائے، شہد یا دارچینی والے دودھ نہ صرف جسم میں گرمی پیدا کرتے ہیں بلکہ گلے کی خراش اور نزلہ زکام جیسے مسائل سے بھی بچاتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ ان سب غذاؤں کے علاوہ پانی پینا نہ بھولیں، کیونکہ سردیوں میں پیاس کم لگتی ہے لیکن جسم کو نمی اور ہائیڈریشن کی اتنی ہی ضرورت رہتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سردیوں میں جسم کو
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔