چین کی جانب سے ایرانی تیل کی طلب میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
امریکی محکمہ خزانہ نے روس کی کمپنیاں لوک آئل اور روس گیس پر ثانوی پابندیاں عائد کیں، جس کے بعد روسی تیل کی برآمدات کو شدید چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں چین کو براہِ راست روسی تیل کی فروخت تقریباً رک گئی، اور ماسکو کو اپنے تیل کی فروخت جاری رکھنے کے لیے 7 سے 10 ڈالر فی بیرل تک رعایت دینا پڑی، کیونکہ روس کے پاس تیل کو سمندر میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ موجودہ عالمی حالات میں چین کی منڈی میں ایران اور روس کے درمیان تیل کی رقابت بڑھ رہی ہے، لیکن چینی کسٹمز کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نومبر میں روسی تیل کی فروخت میں کمی آئی ہے، جبکہ اسی مدت میں ایرانی تیل کو چین کو فروخت اضافہ ہے۔ چین کے کسٹمز کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس ملک کی خام تیل کی درآمدات میں نومبر کے دوران پچھلے سال کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح تیل بردار جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق، نومبر میں چین کی سمندر کے راستے خام تیل کی آمد میں اکتوبر کے مقابلے میں اضافہ ہوا، اور ایرانی تیل کی برآمد اس مہینے 233 ہزار بیرل یومیہ بڑھ کر 1.
کمپنی ورتکسا چین کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار اما لی کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین میں داخلی طلب اس سیزن میں کم ہو گئی ہے، لیکن ایران اور روس کے تیل پر پابندیوں نے ریفائنریوں کے لیے خام مال کی قیمتوں میں نمایاں کمی پیدا کی ہے۔ اس سے ریفائنری کا منافع بڑھا ہے اور متعدد ریفائنریاں 2026 کی پہلی درآمدی کوٹے کی منظوری سے پہلے ہی پیشگی خریداری کی کوشش کر رہی ہیں۔ کپلر کے تجزیہ کار مو یو شو کے مطابق یہ اضافہ گزشتہ مہینوں میں ایران کی زیادہ برآمدات اور ایک حد تک اس توقع کے باعث ہے کہ خریدار نومبر کے ابتدائی کوٹے کی منظوری سے پہلے ہی تیل کے حصول کے لیے اقدامات کریں گے۔
22 اکتوبر کو امریکی محکمہ خزانہ نے روس کی کمپنیاں لوک آئل اور روس گیس پر ثانوی پابندیاں عائد کیں، جس کے بعد روسی تیل کی برآمدات کو شدید چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں چین کو براہِ راست روسی تیل کی فروخت تقریباً رک گئی، اور ماسکو کو اپنے تیل کی فروخت جاری رکھنے کے لیے 7 سے 10 ڈالر فی بیرل تک رعایت دینا پڑی، کیونکہ روس کے پاس تیل کو سمندر میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اگرچہ روس نے تیل بہت سستا کر دیا ہے، لیکن خریداروں کی ہچکچاہٹ نے اب تک چین کی گرے مارکیٹ میں ایرانی تیل کی قیمت پر زیادہ اثر نہیں ڈالا، اگرچہ مستقبل میں مقابلے کی فضا پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔
اب چین کے گمرک کے تازہ اعداد و شمار، جو رائٹرز نے شائع کیے ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ نومبر میں روس کے سمندر کے راستے خام تیل کی آمد 157 ہزار بیرل یومیہ کم ہو کر 1.19 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔ کپلر کے تجزیہ کار کے مطابق، اس کمی کی بنیادی وجہ سرکاری ریفائنریوں کی خریداری میں کمی اور نجی ریفائنریوں کے محدود کوٹے ہیں۔ چینی کسٹمز کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نومبر میں تیل کی درآمدات میں 4.88 فیصد اضافہ ہوا اور روزانہ درآمد کا حجم اگست 2023 کے بعد سب سے زیادہ سطح پر پہنچ گیا۔ نومبر میں چین نے 50.89 ملین ٹن خام تیل درآمد کیا، جو تقریباً 12.38 ملین بیرل یومیہ کے برابر ہے۔ یہ مقدار اکتوبر کے مقابلے میں 5.24 فیصد زیادہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے اعداد و شمار تیل کی فروخت روسی تیل کی ایرانی تیل بیرل یومیہ میں چین خام تیل اور روس کے لیے روس کے چین کی ہیں کہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔