امریکا نے مزید 55 ایرانی ملک بدر کر دیے، تہران کا سخت ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
امریکا نے 55 ایرانی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی تصدیق ایران نے بھی کر دی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے گرفتار کیے گئے یہ تمام شہری آئندہ چند روز میں ایران واپس پہنچ جائیں گے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی کے تحت ایرانی شہریوں کی یہ دوسری بڑی بے دخلی ہے۔
اس سے قبل ستمبر میں امریکا نے تقریباً 400 ایرانی شہریوں کی نشاندہی کی تھی جنہیں ملک بدر کیا جانا تھا، جبکہ 120 ایرانی پہلے ہی دوحہ کے ذریعے تہران پہنچ چکے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی رویّے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی قرعہ اندازی میں شرکت کے لیے ایرانی فٹبال ٹیم کے وفد کو ویزے بھی جاری نہیں کیے، جو غیر منصفانہ اقدام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکا نے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔